خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 201
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۰۱ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء کی ساری دولت بھی ہمارے پاس ہوتی ، دنیا کے سارے اموال بھی ہمارے پاس ہوتے ، دنیا کے اقتدار کے بھی ہم مالک ہوتے ، دنیا کی ساری عزتیں اور وجاہتیں بھی ہمارے قدموں میں ہوتیں تب بھی ہم کسی تدبیر کے نتیجہ میں فلاح اور کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکتے تھے جب تک کہ ہم عاجزی اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکنے والے نہ ہوتے اس کو اپنا مطلوب مقصود اور محبوب نہ بناتے اور اس سے مدد اور نصرت کے طالب نہ ہوتے اور اس بات پر پختہ یقین نہ رکھتے کہ کامیابی محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کے نتیجہ میں نصیب ہو سکتی ہے ہماری تدابیر اور ہمارے اعمال کے نتیجہ میں نہیں۔پس جب یہ حقیقت ہے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہر وقت اور ہر آن اپنے رب کے حضور یہ دعائیں کرتے رہیں کہ اے خدا! تو نے ہمیں تدبیر میسر نہیں کی لیکن تو نے ہمیں گداز دل عطا کئے ہیں۔ہم کو منکسر مزاج دیئے ہیں ہم تیرے حضور جھکتے ہیں تو ، ہم پر فضل کر، تو ہم پر رحمت کی نگاہ کر ، اور اس مقصد کے حصول کے سامان جلد پیدا کر دے جس مقصد کے لئے تو نے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے۔تو ہمیں کامیابی عطا فرما اور پھر اے خدا! تو ہم پر ایسا فضل کر کہ آسمان سے فرشتوں کی افواج نازل ہوں اور بنی نوع انسان کے دلوں پر ان کا تصرف ہو جائے حتی کہ وہ ان دلوں کو تبدیل کر دیں تا تیرا جلال اور کبریائی ، تیری عظمت اور تیری توحید دلوں میں پیدا ہو جائے اور وہ جو آج تیرے خلاف باغیانہ خیالات رکھتے ہیں وہ تیرے مطیع بندے بن جائیں اور اے خدا! جیسا کہ تیرا وعدہ ہے غلبہ اسلام کے دن ہمیں جلد دکھا تا ہم تمام اکناف عالم میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کی صدا سنے لگیں اور تمام بنی نوع انسان اپنے محسن حقیقی محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگیں۔خدا کرے کہ اس کے سامان جلد پیدا ہو جائیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۱ رمئی ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۴)