خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 197

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۹۷ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء جماعت کو دیئے ہیں وہ محض ہماری تدبیر کی بنا پر اور محض ہماری کوشش کے نتیجہ میں پورے نہیں ہو سکتے ہمیں اس کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔پس عقل بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ تدبیر پر بھروسہ رکھنا ہر گز درست نہیں۔عقل کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں جو تعلیم دی ہے اس میں بھی وہ ہمیں یہی بتاتا ہے کہ فلاح اور کامیابی کے حصول کے لئے محض تدبیر کافی نہیں۔الہی سلسلے دعا کے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ فرقان کے آخر میں فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمُهُ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا (الفرقان : ۷۸) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول تو کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہی کیا کرتا ہے اگر تمہاری طرف سے دعا نہ ہو۔لَوْلَا دُعَاءكُمْ لغت میں ہے دَعَاهُ نَادَاهُ اس نے اس کو پکارا۔رَغِبَ إِلَيْهِ اس کی طرف رغبت کی اِسْتِعَانَہ اس سے مدد چاہی ان معنوں کی رو سے اس حصہ آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب تک تم اللہ تعالیٰ کو اپنا مطلوب اپنا مقصود اور اپنا محبوب اس سے امداد حاصل کرنے کے لئے اور اس کی نصرت چاہنے کے لئے اسے نہیں پکا رو گے تو مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ ربی اسے تمہاری کیا پرواہ ہو گی وہ يَعْبُوا کے مفہوم کے مطابق تم سے سلوک نہیں کرے گا عَباً يَعْبَؤُا کے لغت میں یہ معنی ہیں کہ مَا عَبَأْتُ به أَن لَمْ أَبَالِ به وأَضْلَهُ مِنَ الْعَبْنِ أَي الفَقْلِ قَالَهُ قَالَ مَا أَرَى لَهُ۔وَزُنًا وَقَدْرًا قَالَ: (قُلْ مَا يَعْبَؤُ بِكُمْ رَنِ) وَقِيْلَ أَصْلُهُ مِنْ عَبَأْتُ الطَّيِّبَ كَانَّهُ قِيْلَ مَا يُبْقِيكُمْ لَوْلَادُعَاءكُمْ، وَقِيلَ عَبَأْتُ الْجَيْشَ وَعَبَأْتُهُ هَيَّثْتُهُ، وَعَبْأَةُ الْجَاهِلِيَّةِ مَاهِيَ مُدَّخَرَةٌ فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ حَمِيَّتِهِمُ الْمَذْكُورَةِ فِي قَوْلِهِ : (فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّة ) - ان معانی کی رو سے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عباً کے مفہوم والا سلوک تم سے کرے گا سوائے اس کے کہ تمہاری دعا اس کے جلوہ حسن و احسان کو جذب کر لے۔اب يَعْبَوا کے چار معنی بنتے ہیں۔