خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 183

خطبات ناصر جلد اول ۱۸۳ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ء دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں، اور انہیں جماعت کے مختلف کاموں کے لئے جس جس جگہ بھجوایا جائے وہاں وہ اپنے خرچ پر جائیں ، اور ان کے وقف شدہ عرصہ میں سے جس قدر عرصہ انہیں وہاں رکھا جائے اپنے خرچ پر رہیں، اور جو کام ان کے سپر د کیا جائے انہیں بجالانے کی پوری کوشش کریں۔میں جانتا ہوں کہ بعض دوست مالی لحاظ سے زیادہ لمبا سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے جو دوست دو ہفتہ سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ میری اس تحریک کے نتیجہ میں وقف کریں۔وہ ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیں کہ ہم مثلاً سومیل تک اپنے خرچ پر سفر کرنے کے قابل ہیں یا دو سو میل یا چار سو میل یا پانچ سو میل اپنے خرچ پر سفر کر سکتے ہیں بہر حال جس قدر بھی ان کی مالی استطاعت ہو وہ ذکر کر دیں تا انہیں اس کے مطابق مناسب جگہوں پر بھجوایا جاسکے۔بڑے بڑے کام جو ان دوستوں کو کرنے پڑیں گے ان میں سے ایک تو قرآن کریم ناظرہ پڑھنے اور قرآن کریم با ترجمہ پڑھنے کی جو مہم جماعت میں جاری کی گئی ہے اس کی انہیں نگرانی کرنا ہو گی اور اسے منظم کرنا ہو گا دوسرے بہت سی جماعتوں کے متعلق ایسی شکایتیں بھی آتی رہتی ہیں کہ ان میں بعض دوست ایمانی لحاظ سے یا جماعتی کاموں کے لحاظ سے اتنے چست نہیں جتنا ایک احمدی کو ہونا چاہیے ان دوستوں سے ایسے احباب کی اصلاح اور تربیت کا کام بھی لیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ ایسی جماعتوں کے سست اور غافل افراد کو چست کرنے کی کوشش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اچھا احمدی ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اچھا شہری بھی ہولیکن بہت سے دوست چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں جھگڑتے اور لڑتے رہتے ہیں اور یہ بات ایک احمدی کے لئے کسی صورت میں بھی مناسب نہیں جب یہ جھگڑے اور لڑائیاں لمبی ہو جاتی ہیں تو جماعت میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔پس جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ دو ہفتے سے چھ ہفتہ تک کا عرصہ میری اس تحریک پر وقف کرنے کی توفیق دے انہیں ان باتوں کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی اور جماعت کے دوستوں کے باہمی جھگڑوں کو نپٹانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی باہر سے جب دوست کسی جماعت میں جائیں گے تو طبعی طور پر وہاں کے مقامی احمدی خیال کریں گے کہ ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ہمیں ایک ایسے دوست کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا ہے جو ہماری