خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 182
خطبات ناصر جلد اول ۱۸۲ خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ء کے لئے بھی دعا کی بہت توفیق پائی صبح جب میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا کہ اینا دیواں گا کہ تورج جاویں گا چونکہ گزشتہ رات کے پچھلے حصہ میں میں نے اپنے لئے بھی دعا کی تھی اور جماعت کے لئے دینی اور روحانی حسنات کے لئے ، پھر خلیفہ وقت کی سیری تو اس وقت ہو سکتی ہے جب جماعت بھی سیر ہو۔اس لئے میں نے سمجھا کہ اس فقرہ میں جماعت کے لئے بھی بڑی بشارت پائی جاتی ہے۔سو میں نے یہ فقرہ دوستوں کو بھی سنا دیا ہے تا وہ اسے سن کر خوش بھی ہوں۔ان کے دل حمد سے بھی بھر جائیں اور انہیں یہ بھی احساس ہو جائے ، کہ انہیں اس رب سے جو ان سے اتنا پیار کرتا ہے کتنا پیار کرنا چاہیے۔لَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - اس وقت میں دوستوں کی خدمت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خلیفہ وقت کا سرمایہ اور خزانہ وہ مال ہی نہیں ہوا کرتا جو قو می خزانہ میں موجود ہو بلکہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کے دلوں میں خلیفہ وقت کے لئے جو محبت اور اخلاص کا جذبہ اور تعاون کی روح پیدا کرتا ہے وہی خلیفہ وقت کا خزانہ ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنادیا ہے کہ میں وہ الفاظ نہیں پاتا جن سے میں اس کا شکریہ ادا کرسکوں لیکن جہاں احباب جماعت مالی قربانیوں میں دن بدن آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں وہاں انہیں اپنے اوقات کی قربانی کی طرف بھی زیادہ متوجہ ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کا ایک حصہ اس وقت بھی وقت کی قربانی میں قابل رشک مقام پر کھڑا ہے۔میں نے خود باہر کی جماعتوں میں دیکھا ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدیداران اپنے مختلف دنیوی کاموں سے فارغ ہونے کے بعد دو دو تین تین بلکہ بعض دفعہ پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے روزانہ جماعتی کاموں کے لئے دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا کرے۔لیکن کسی مقام پر کھڑے ہو جانے سے کسی مذہبی اور روحانی سلسلہ کی تسلی نہیں ہوتی۔مومن کا دل ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ میں ایک دم کے لئے بھی کھڑا نہ ہوں۔بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاؤں پھر جماعت کا ایک حصہ ایسا بھی تو ہے جو وقت کی قربانی کی طرف زیادہ متوجہ نہیں۔غرض وقت کی قربانی کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اور اس کے لئے میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ دوست جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے سال میں