خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 95

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء ادا ئیگی میں جو کمزوری اور رخنے باقی رہ جاتے ہیں ان کو دور کرنے کا ذریعہ بھی ہیں لیکن فرائض کے بغیر نوافل کوئی چیز نہیں اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ فرائض کو چھوڑ کر نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر لے گا وہ غلطی پر ہے۔موٹی بات ہے کہ جو سامان مرمت کرنے کے لئے ہے اسے اس مکان میں جو ابھی تعمیر ہی نہیں ہوا کیسے خرچ کیا جا سکتا ہے۔جب تک آپ فرائض کی ادائیگی کے نتیجہ میں جنت میں اپنا مکان تعمیر نہیں کر لیتے۔اس کے رخنے دور کرنے اور اس کی خوبصورتی اور تزئین کا سامان مہیا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس پہلے آپ فرائض کو کما حقہ ادا کر کے جنت میں اپنا مکان تعمیر کریں۔پھر اس کو خوبصورت بنانے ، اسے سجانے اور اس کی زیبائش کے لئے نوافل کی طرف متوجہ ہوں اور جو لوگ نوافل کی طرف متوجہ ہوں آپ ان کے نوافل اور عبادات میں مخل نہ ہوں۔رمضان کے ان آخری دنوں میں جن میں ہم اعتکاف بیٹھتے ہیں ایک وہ رات بھی آتی ہے جولیلۃ القدر کے نام سے موسوم ہے۔لیلۃ القدر کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ رات جس میں اگر انسان چاہے اور پھر اس کا رب فضل کرے تو وہ اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر کو اپنے رب سے بدلوا سکتا ہے یعنی لیلتہ القدر وہ رات ہے جس میں تقدیریں بھی بدل سکتی ہیں لیکن اکثر تقریریں جو متضرعا نہ دعا کے نتیجہ میں بدل دی جاتی ہیں ہمارے علم میں نہیں آسکتیں۔مثلاً ایک دفعہ ہماری موٹر کا ایک حادثہ ہو گیا اور وہ حادثہ اس نوعیت کا تھا کہ اگر ایک منٹ پہلے یا ایک منٹ بعد ہماری کار جائے حادثہ پر پہنچتی تو حادثہ پیش نہ آتا اور پھر یہ فضل بھی ہوا کہ جو شخص اس حادثہ کا بُری طرح شکار ہوا تھا اسے خدا تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بچالیا اس وقت میرے دل میں اپنے رب کے لئے بہت حمد پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ ہزاروں آفتیں اور حوادث ہم سے ٹال رہا ہے لیکن ہمیں ان کا علم بھی نہیں اور مجھے میری زندگی میں اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھا دیا ہے تا مجھے یقین اور وثوق ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کس قدر محبت رکھتا ہے۔پس جو تقدیر نظر آتی ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے اور جو تقدیر نظر نہیں آتی اس پر بھی انسان کا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (يوسف: ۲۲) اللہ تعالیٰ