خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 96
خطبات ناصر جلد اول ۹۶ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء تقدیر بدل سکتا ہے اور بدلتا ہے ہاں جو تقدیر پردہ غیب میں ہے اور پردہ غیب میں ہی بدل دی جاتی ہے اس کے متعلق اکثر لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری دعا کو قبول فرما کر بہت سی دکھ دینے والی چیزوں کو بدل دیتا ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے بھر جانے چاہئیں۔اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ اکثر لوگ غیب کی ان باتوں کی طرف مومنانہ فراست سے متوجہ نہیں ہوتے اور ان کے دل حمد سے خالی رہتے ہیں۔پس ان آخری دنوں میں اعتکاف بیٹھنے کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ لیلۃ القدر کی تلاش کی جائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات کی تلاش کے لئے ان دنوں میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ جس کو یہ رات دکھا دے اور جس خوش قسمت کو وہ گھڑی نصیب ہو جائے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں بڑی کثرت سے سنتا ہے تو اسے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور اس رات کی تلاش سے پہلے اسے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے قبولیت دعا کی یہ گھڑی نصیب کر دی تو وہ اس میں کون کون سی دعا کرے گا۔احادیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ میں نوافل بھی پڑھوں گی اور دعائیں بھی کروں گی لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کی گھڑی نصیب ہو جائے تو اس میں میں کون سی دعا کروں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھڑی میں تم اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔پس استغفار ایک بنیادی دعا ہے اس کے بغیر حقیقتاً ہماری زندگی زندگی ہی نہیں رہتی نہ دنیوی زندگی باقی رہ سکتی ہے اور نہ اُخروی زندگی۔نہ مادی زندگی باقی رہ سکتی ہے اور نہ روحانی زندگی۔اس دنیا میں جو مختصر زندگی ہمیں ملتی ہے اس میں ہم اس قدر غلطیاں کرتے ہیں اتنی کوتاہیاں ہم سے سرزد ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور عفو نہ ہو اور وہ اس دنیا میں یا اگلی دنیا میں ہمیں پکڑنا چاہے تو ہمارے لئے راہ نجات ممکن ہی نہیں۔لیلۃ القدر کی گھڑی میں جو دعائیں مانگنی چاہئیں ان میں سے دو بنیادی اور انفرادی دعائیں استغفار اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنا ہے۔استغفار یعنی اپنے گناہوں کی مغفرت چاہنا اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر پردہ پوشی کی درخواست کرنا اور خاتمہ بالخیر ہو جائے تو پھر پچھلی غلطیاں