خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1018
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۱۸ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء فِيْهِ وَجْهَانِ اَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَاجِعٌ إِلَى الْعَابِدِ لِأَنَّهُ إِذَا تَرَكَ النَّوْمَ الَّذِي هُوَ أَخُو الْمَوْتِ لِلْعِبَادَةِ فَكَانَهُ أَحْيَا نَفْسَهُ وَثَانِيْهِمَا أَنَّهُ عَائِدٌ إِلَى اللَّيْلِ فَإِنَّ لَيْلَهُ لَمَّا قَامَ فِيْهِ فَكَانَّمَا أَحْيَاهُ بِالطَّاعَةِ - یعنی احیا لیلہ کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی سنت کی اتباع میں وہ جو آپ سے محبت رکھتے ہیں رمضان کے آخری عشرہ میں رات کو زندہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رات کے اوقات خرچ کرنے کے نتیجہ میں وہ رات کو زندہ کرتے ہیں اور دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ رات کی عبادتوں کے نتیجہ میں انسان کا نفس حقیقی زندگی اور حیات کو حاصل کرتا ہے ظاہری طور پر جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے نیند جو کہ موت کی سی کیفیت اپنے اندر رکھتی ہے جب اسے انسان چھوڑتا ہے اور بیدار رہ کر عبادت میں وقت گزارتا ہے تو گویا اس نے اپنے نفس کو زندہ کیا لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ دعا کے ذریعہ سے آخیالیکہ وہ اپنے نفس کو زندہ کرتا ہے یعنی ایک عبادت کرنے والا عبادت اور دعا کے ذریعہ سے اپنے نفس کو زندہ کرتا اور اس کی حیات اور بقا کے سامان پیدا کرتا ہے یہ نہیں کہ اس نے نیند ترک کی۔اور اپنی زندگی کے چند لمحات سونے کی بجائے جاگنے میں خرچ کر دیئے اس کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ انسان کی زندگی اور اس کی بقا کا انحصار اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید پر ہے جسے انسان دعاؤں کے نتیجہ میں حاصل کرتا ہے غرض یہ دعاؤں کے دن اور دعاؤں کی راتیں ہیں جن میں ہم داخل ہونے والے ہیں۔اسی طرح آج جمعہ کا دن بھی خصوصاً دعا کا دن ہے میں یہ تو نہیں کہتا کہ آپ اپنے لئے یا اپنوں کے لئے دعانہ کریں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اور یہ اسوہ ہمیں پہنچا ہے کہ زندگی کا ہرلمحہ خدا تعالیٰ کی رحمت پر منحصر ہے اس کی رحمت کے بغیر ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتے اور ہماری کوئی ضرورت بڑی ہو یا چھوٹی اس کے فضل کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔بڑی چیزوں کو تو چھوڑ و جوتی کا ایک تسمہ بھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اپنے لئے بھی ضرور دعائیں کرتے رہنا چاہیے اس کے بغیر دراصل زندگی کوئی زندگی نہیں۔نیز جماعت کے لئے بھی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ