خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1017
خطبات ناصر جلد اول 1+12 خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء اس وقت انسانیت اتنی بڑی تباہی کے کنارے کھڑی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی خطبه جمعه فرموده ۲۲ دسمبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج جمعہ ہے اور جمعہ کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اجابت دعا کی خاص گھڑیاں بھی ہوتی ہیں جسے وہ گھڑیاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے میسر آجائیں اور اسے خلوص نیت اور عاجزی سے دعا کرنے کی توفیق ملے تو اللہ تعالیٰ دوسرے وقتوں کی نسبت دعا زیادہ قبول کرتا ہے۔اسی طرح رمضان کا آخری عشرہ بھی آ رہا ہے بلکہ سمجھیں کہ آہی گیا ہے ان آخری دنوں کے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اس عشرہ میں مسلمان کو اس رات کی تلاش کرنی چاہیے ، تقدیر کی ، جس رات میں اس کی دعا ئیں قبول ہوں اور اسلام کے حق میں دنیا کی تقدیریں بدل دی جائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی تھی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا۔شَدَّ مِثْزَرَهُ وَاَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ یعنی آپ پورے طور پر مستعد ہو جاتے اور دعاؤں اور عبادت کے بجالانے کے لئے اَحْيَالَیلَہ۔اس کے متعلق شرح کرمانی میں ہے۔