خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1004 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1004

خطبات ناصر جلد اوّل 1005 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء ہے ان عاشقانہ التجاؤں کے ساتھ ایک بندہ اپنی محبت کا اظہار کرتا اور اپنے رب کی محبت کو جذب کرتا ہے اور دعا کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس پر ایک موت وارد ہو رہی ہے پس وہ موت کی سی کیفیت پیدا کر کے اپنے رب کے حضور جھکتا ہے اپنا سب کچھ بھول جاتا ہے اور صرف اسی کی یا داس کے دل اور اس کے دماغ کو معطر کر رہی ہوتی ہے۔عاجزانہ دعاؤں کے وقت موت کی سی کیفیت صرف اس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کے سامان پیدا کئے جائیں اور وہ سامان بَأْسَاءُ اور ضَرَآءُ اور زُلْزِلَ ہیں۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا ہے کہ تمہیں تکالیف میں ڈالنا ہمارا مقصد نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مخالفوں کے ابتلا اور قضا و قدر کے ابتلا اور احکام و اوامر کے امتحان بندہ کے لئے اسی لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں کہ تا اللہ کا ایک بندہ اپنے رب کی طرف جھکے اور بار بار جھکے اور ان عاشقانہ التجاؤں اور عاجزانہ دعاؤں کے نتیجہ میں اسے قرب الہی حاصل ہو اور اس کے اندر حقیقی روحانیت پیدا ہو جائے اور ایک زندہ تعلق اس کا اپنے رب کے ساتھ قائم ہو جائے جس کے نتیجہ میں مصائب و شدائد اور ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے معجزانہ نصرت اور تائید کے نشانات اسے دکھائے اور اس طرح پر اس کے ایمان کو زندہ اور مضبوط کرے۔اس آیت کے معنی جو تفسیر کبیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بیان کئے ہیں یہ ہیں کہ " کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اس کے کہ ابھی تم پر ان لوگوں کی سی تکلیف کی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے انہیں تنگی ( بھی ) پہنچی اور تکلیف ( بھی ) اور انہیں خوف دلایا گیا تا کہ (اس وقت کا ) رسول اور اس کے ساتھ (کے) ایمان والے کہہ اٹھیں کہ اللہ کی مدد کب آئے گی یا درکھو اللہ کی مدد یقیناً قریب ہے۔“ یعنی وہ کہہ اٹھیں کہ ہمارے پیارے رب ہم تیری مدد کے، تیری نصرت اور تائید کے اور محبت کے سلوک کے منتظر ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فعل سے یہ شہادت دے گا کہ ایسے لوگوں