خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 85
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۵ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء ہے اور اس کے اس ماحول میں اس کا کردار اور اس کے اخلاق اثر انداز ہور ہے ہوتے ہیں اور اس طرح وہ خاموشی کے ساتھ اپنا نمونہ دکھا کر یا گفتگو کے ذریعہ احمدیت کا اثر اور نفوذ بڑھانے والا ہوتا ہے۔غرض وہ بچے جو تعلیم سے فارغ ہو کر کام پر نہیں لگتے اور بریکار پھرتے رہتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ جماعتی کاموں میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہتے بلکہ یہ بھی خطرہ ہوتا ہے کہ ان کے دماغ میں آوارگی آجائے اور وہ شیطان کا آلہ کار بن جائیں۔پس جماعت کے نو جوانوں کی اخلاقی ، اقتصادی اور دینی حالت کی حفاظت کرنا نظارت امور عامہ کا کام ہے۔اس کے متعلق اسے پوری اطلاعات رکھنی چاہئیں اور ایسا منصوبہ بنانا چاہیے کہ مختلف دماغ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں وہ اپنے مخصوص راستوں پر چل کر آئندہ زندگی میں کامیاب ہوں۔اگر نظارت کو ان راستوں کا علم نہیں جو ہماری قومی ترقیات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو وہ جماعت کے نو جوانوں کی مناسب راہ نمائی نہیں کر سکتی۔مثلاً بہت سے دماغ ایسے ہوں گے جو مثال کے طور پر ب۔ج۔د۔شعبوں میں جاسکتے ہیں اور ان شعبوں کے متعلق نظارت کو معلومات حاصل نہیں اس لئے وہ انہیں ا۔و۔کی شعبوں میں کام کرنے کا مشورہ دیتی ہیں جن شعبوں سے وہ دماغ کوئی مناسبت ہی نہیں رکھتے تو اس کا یہ مشورہ غلط ہو گا۔پس نظارت امور عامہ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق معلومات حاصل کرنی چاہئیں اور اسے اپنے آپ کو علی وجہ البصیرت اس قابل بنانا چاہیے کہ وہ جماعت کے نوجوانوں کو صحیح مشورہ دے سکے تا وہ اس دنیا میں ہر لحاظ سے کامیاب زندگی گزار سکیں۔غرض صدر انجمن احمدیہ کی ساری نظارتوں کو اس سال کے لئے جو شروع ہوا ہے پوری سوچ و بچار کے بعد اور زیادہ وقت لئے بغیر منصوبہ تیار کرنا چاہیے اور یہ کام بہر حال مجلس شوری کے انعقاد سے پہلے ہو جانا چاہیے تا کہ اس کے بعد میں خود مجلس شوری اور ساری جماعت اس بات کا جائزہ لیتے رہیں کہ جماعت کے ذمہ دار ادارے اپنے اپنے منصوبہ کے مطابق پوری جد و جہد اور کوشش کر رہے ہیں یا نہیں۔وقف جدید انجمن احمدیہ کا کام بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ علاقہ کے لحاظ سے ان کی معلومات ابھی ناقص ہیں اس لئے انہیں اور زیادہ مطالعہ کی ضرورت ہے۔اس