خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 84

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۴ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء بعض اچھے دماغ محض اس وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں کہ وہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور جماعت بھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ناشکری کرتے ہوئے ان قابل ذہنوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔پس ہراچھا دماغ رکھنے والے طالب علم کو جو جائزہ لینے کے بعد اس قابل معلوم ہو کہ اگر اسے اعلیٰ تعلیم دلائی جائے تو اسلام اور احمدیت کا نام روشن کرنے والا ثابت ہوسکتا ہے سنبھالنا جماعت کا فرض ہے۔جماعت کو اس پر نہ صرف روپیہ خرچ کرنا چاہیے بلکہ اس کے لئے دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ اسے راہ راست پر قائم رکھے اور اس کے دماغ میں پہلے سے بھی زیادہ جلاء پیدا کرتا چلا جائے اور اسے الہام کے ذریعہ نئے نئے مسائل کے حل کرنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔پھر بعض اچھے دماغ اس وجہ سے بھی ضائع ہو جاتے ہیں کہ جب وہ اپنی تعلیم ختم کر لیتے ہیں تو انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اپنی آئندہ زندگی میں کس راستہ کو اختیار کریں اس لئے جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی ان کی آئندہ زندگی کے پروگرام بنانے میں مدد کرے۔بہت اچھے دماغ ، اچھے دماغ ، درمیانے دماغ اور نسبتا کمزور دماغ سارے ہی اس بات کے حقدار ہیں کہ جماعت ان کی راہ نمائی کرے اور جہاں جہاں وہ زندگی کے کاموں میں لگ سکتے ہیں وہاں انہیں لگوانے میں مدد کرے کیونکہ ہر وہ نو جوان جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی کام کرے اگر وہ بروقت کام پر نہیں لگتا اور جماعت بھی اسے کسی کام پر لگوانے میں مدد نہیں دیتی تو گویا ہم اسے خود پکڑ کر شیطان کی گود میں لا بٹھاتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ برکا ررہنے والے لوگوں پر شیطان حملہ کرتا ہے اور انہیں اپنا آلہ کار بنالیتا ہے۔پھر ایسا نو جوان جو تعلیم حاصل کر لینے کے بعد کام پر نہیں لگتا اور بریکاررہتا ہے نہ صرف اپنے خاندان کے لئے ایک مصیبت بن جاتا ہے بلکہ اس کی بریکاری سے جماعت بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔کیونکہ جو نو جوان تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جلد ہی کام پر لگ جاتا ہے وہ کمائی کرنا شروع کر دیتا ہے اور اپنی اس کمائی میں سے غلبہء اسلام کی جدوجہد میں کنٹری بیوٹ (Contribute) کر رہا ہوتا ہے۔پھر جب وہ کام پر لگتا ہے تو اس کا ایک ماحول بنتا