خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 945
خطبات ناصر جلد اول ۹۴۵ خطبه جمعه ۲۰ ا کتوبر ۱۹۶۷ء اپنی نسلوں پر رحم کریں اور خدائے رحیم و کریم کی آواز کو سنیں اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اور صداقت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا کرے۔اب میں مختصراً اس روحانی انقلاب کا ذکر کرتا ہوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ دنیا میں رونما ہونا تھا مگر یہ نہ بھولنا چاہیے کہ آپ کی بعثت کے زمانہ میں اسلام انتہائی کسمپرسی اور تنزل کی حالت میں تھا علم مسلمان کے پاس نہ تھا دولت سے وہ محروم تھے صنعت وحرفت میں ان کا کوئی مقام نہ تھا تجارت ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی سیاسی اقتدار وہ کھو چکے تھے اور حقیقی معنی میں تو دنیا کے کسی حصہ میں وہ صاحب اختیار حاکم نہ رہے تھے۔اخلاقی حالت بھی ابتر تھی اور شکست خوردہ ذہنیت ان میں پیدا ہو چکی تھی اور پھر اُبھر نے اور زندہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کی کوئی امنگ باقی نہ رہی تھی۔اسلام کی مخالفت کا یہ حال تھا کہ دنیا کی سب طاقتیں اسلام پر حملہ آور ہو رہی تھیں اور اسلام کو سر چھپانے کے لئے کہیں جگہ نہ مل رہی تھی عیسائیت سب میں پیش پیش تھی اور اسلام کی سب سے بڑی دشمن عیسائی ، مناد کثرت سے دنیا میں پھیل گئے تھے عیسائی دنیا کی دولت اور سیاسی اقتدار ان مناد کی مدد کو ہر وقت تیار تھا اور ان کا پہلا اور بھر پوروا را سلام کے خلاف تھا اسے اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا میں اعلان کیا گیا کہ ا۔براعظم افریقہ عیسائیت کی جیب میں ہے۔۲۔ہندوستان میں دیکھنے کو بھی مسلمان نہ ملے گا اور وقت آگیا ہے کہ مکہ معظمہ پر عیسائیت کا جھنڈا لہرائے گا۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کی اپنی حالت یہ تھی کہ ابھی گنتی کے چند غریب مسلمان آپ کے گرد جمع ہوئے تھے کوئی جتھہ کوئی دولت کو ئی سیاسی اقتدار آپ کے پاس نہ تھا مگر وہ جس کے قبضہ قدرت میں ہر شے ہے آپ کے ساتھ تھا اور اسی خدا نے آپ سے یہ کہا کہ دنیا میں یہ منادی کر دو کہ اسلام کی تازگی کے دن آگئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اسلام تمام ادیانِ عالم پر اپنے دلائل اور اپنی روحانی تا شیروں کی رو سے غالب آئے گا۔