خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 938
خطبات ناصر جلد اول ۹۳۸ خطبه جمعه ۲۰ ا کتوبر ۱۹۶۷ء جہالت کے اس زمانہ میں آپ کے والد نے بعض معمولی پڑھے لکھے اساتذہ آپ کی تعلیم پر مقرر کئے۔جنہوں نے آپ کو قرآن کریم پڑھنا سکھایا مگر وہ اس قابل نہ تھے کہ معارف قرآنی اور اسرار روحانی کی ابتدائی تعلیم بھی آپ کو دے سکتے اس کے علاوہ ان اساتذہ نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم آپ کو دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو عربی اور فارسی پڑھنی آگئی اس سے زیادہ آپ نے اساتذہ سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی سوائے طب کی بعض کتب کے جو آپ نے اپنے والد سے پڑھیں جو اس زمانہ میں ایک مشہور طبیب تھے۔ی تھی وہ کل تعلیم جو آپ نے درسی طور پر حاصل کی اس میں شک نہیں کہ آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور آپ اپنے والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں بہت مشغول رہتے تھے لیکن چونکہ اس زمانہ میں علم کی خاص قدر نہ تھی اور آپ کے والد کی خواہش تھی کہ وہ دنیوی کاموں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹائیں اور دنیا کمانے اور دنیا میں عزت کے ساتھ رہنے کا ڈھنگ سیکھیں اس لئے آپ کے والد آپ کو کتب کے مطالعہ سے ہمیشہ روکتے رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ زیادہ پڑھنے سے تمہاری صحت پر برا اثر پڑے گا۔ظاہر ہے کہ اس قدر معمولی تعلیم کا مالک وہ عظیم کام ہر گز نہیں کر سکتا تھا جو اللہ تعالیٰ آپ سے لینا چاہتا تھا اس لئے خدا خود آپ کا معلم اور استاد بنا اور خود اس نے آپ کو معارف قرآنی اور اسرار روحانی اور دنیوی علوم کے بنیادی اصول سکھائے اور اس کے ذہن کو اپنے نور سے منور کیا اور اسے قلم کی بادشاہت اور بیان کا حسن اور شیرینی عطا کی اور اس کے ہاتھ سے بیسیوں بے مثل کتب لکھوائیں اور بیبیوں شیر میں تقاریر کروائیں جو علم اور معرفت کے خزانوں سے بھری ہوئی ہیں۔۱۸۳۵ء کا سال اس قدر اہم اور اس سال پیدا ہونے والا بچہ اس قدر عظیم تھا کہ پہلے نوشتوں میں اس کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی اس ضمن میں میں صرف ایک پیشگوئی بتانا چاہتا ہوں اور وہ پیشگوئی حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو آپ نے اس مولود کے متعلق قریباً تیره صد سال قبل دی تھی اور وہ یہ ہے آپ نے فرمایا :۔إِنَّ لِمَهْدِينَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْارْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ