خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 937 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 937

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۳۷ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۶۷ء حاصل ہے۔اس حیثیت میں مجھ پر بعض ایسی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کو میں آخری سانس تک نظر انداز نہیں کر سکتا میری ان ذمہ داریوں کا دائرہ تمام بنی نوع انسان تک وسیع ہے اور اس عقد اخوت کے اعتبار سے مجھے ہر انسان سے پیار ہے۔احباب کرام! انسانیت اس وقت ایک خطر ناک تباہی کے کنارے پر کھڑی ہے اس سلسلہ میں میں آپ کے لئے اور اپنے تمام بھائیوں کے لئے ایک اہم پیغام لایا ہوں موقعہ کی مناسبت کے پیش نظر میں اسے مختصر بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔میرا یہ پیغام امن صلح اور انسانیت کے لئے امید کا پیغام ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ پورے غور کے ساتھ میری ان مختصر باتوں کو سنیں گے اور پھر ایک غیر متعصب دل اور روشن دماغ کے ساتھ ان پر غور کریں گے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ۱۸۳۵ء انسانی تاریخ میں ایک نہایت ہی اہم سال تھا کیونکہ اس سال شمالی ہند کے ایک غیر معروف اور گمنام گاؤں قادیان کے ایک ایسے گھرانہ میں جو ایک وقت تک اس علاقہ کا شاہی گھرانہ رہنے کے باوجود شہزادگی کی سب شان وشوکت کھو بیٹھا تھا ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ نہ صرف روحانی دنیا میں بلکہ مادی دنیا میں بھی ایک انقلاب عظیم پیدا کرے اس بچے کا نام اس کے والدین نے مرزا غلام احمد رکھا اور بعد میں وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے اور مسیح اور مہدی کے خدائی القاب سے مشہور ہوا عَلَيْهِ السَّلَامُ۔مگر قبل اس کے کہ میں اس روحانی اور مادی انقلاب عظیم پر روشنی ڈالوں میں آپ کی سوانح حیات نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔تاریخی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی پیدائش ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء میں ہوئی اور جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے وہ زمانہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور لوگوں کی تعلیم کی طرف بہت کم توجہ تھی یہاں تک کہ اگر کسی کے نام کوئی خط آتا تو اسے پڑھوانے کے لئے اسے بہت محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑتی اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوتا کہ ایک لمبا عرصہ خط پڑھنے والا کوئی نہ ملتا۔