خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 78
خطبات ناصر جلد اول زمانہ اور وہ سال ہم سب کے لئے برکتوں والا ہو۔خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء برکت کے ایک معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی کے جو سامان اس کے بندوں کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ان کو دوام اور قیام حاصل ہو جائے۔پس میری ”مبارک ہو“ کی دعا یوں ہوئی کہ خدا تعالیٰ کرے کہ وہ تمام برکتیں (خیر اور بھلائی کی چیزیں) نعمتیں اور رحمتیں جو اس نے جماعت احمدیہ کے لئے مقدر کر رکھی ہیں۔اس سال نو میں ہم ان کے نظارے ہر آن دیکھتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اللہ تعالیٰ نے ایک مصلح موعود کی بشارت عطا فرمائی تھی تو اس نے اس پیشگوئی کے اندر جماعت احمدیہ کو بھی بہت سی بشارتیں دی تھیں۔سو اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں جماعت احمدیہ سے جو وعدے کئے تھے۔ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سال کو ان معنوں میں بھی با برکت کرے کہ وہ آپ کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالے اور آپ سے ہر آن خوش رہے وہ آپ کو بھولے نہیں۔وہ آپ کو فراموش نہ کرے۔بلکہ اس کی یاد میں آپ ہمیشہ حاضر رہیں اور جس طرح ایک دوست دوسرے دوست کو محبت کے ساتھ یاد کرتا ہے۔اسی طرح ہمارا آقا اور ہمارا مالک محض اپنے فضل سے ہمارے ساتھ دوستانہ معاملات کرتا چلا جائے۔برکت کے دوسرے معنوں کی رو سے ہم اس دعا میں یہ زیادتی بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ان عنایات میں زیادتی کرتا چلا جائے۔کیونکہ برکت کے ایک معنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غیر محسوس طور پر زیادتی کے بھی ہیں۔برکت کے تیسرے معنوں کے رو سے یہ دعا یوں بھی ہو گی کہ خدا کرے کہ آپ اور میں ان نیکیوں پر ثابت قدم رہیں جو خدا تعالیٰ کو محبوب اور پیاری ہیں اور روحانی جہاد کے اس میدان میں جس کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے آج ہمارے لئے کھولا ہے اور جس میدان میں اس نے ہمیں لا کھڑا کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے اور آپ کی اطاعت کا دعوی کرنے کے بعد ہم پیٹھ نہ دکھا ئیں اور ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ شیطان کا مقابلہ کرتے چلے جائیں۔پس یہ سال نو مبارک ہو آپ کے لئے بھی اور میرے لئے بھی ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان