خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 920
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۲۰ خطبہ جمعہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ کے بے حد فضل اور رحمتیں آسمان سے نازل ہو رہی تھیں اتنی کہ ان کا کوئی شمار نہیں۔ان بے شمار فضلوں کے نتیجے میں ایک تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ کا وہ بندہ جو اپنے رب کے ارفع اور اعلیٰ مقام نیز اپنے مقام کو جو عاجزی اور نیستی کا مقام ہے پہچانتا ہے وہ ہر وقت اس کے شکر میں محو رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی سوچا کہ اب جماعت کو اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کی بارش اپنے پر پڑتے دیکھ لینے کے بعد یہ خواہش پیدا ہوگئی ہے کہ اسی کثرت سے اللہ تعالیٰ کے فضل اس پر نازل ہوتے رہیں جس طرح بعض لوگ اپنے جسم کی بناوٹ اور عادت کے نتیجہ میں بہت زیادہ کھاتے ہیں اور بعض ہیں جو اپنے جسم کی بناوٹ اور عادت کے نتیجہ میں بہت کم کھانے والے ہیں تو جو کم کھانے والے ہیں ان کو کم ملے تو انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن جس کے جسم کی بناوٹ اور اس کی عادت یہ ہو جائے کہ وہ زیادہ کھائے اس کو اگر آپ پانچ روٹیاں بھی دیں گے تو وہ کہے گا کہ میں تو ابھی بھوکا ہی ہوں میری تو سیری نہیں ہوئی۔اسی طرح جماعت اب اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی متواتر اور کثرت سے برسنے والی بارش سے ہی سیر ہو سکتی ہے اور اس روحانی سیری کے حصول کے لئے تمہیں شکر“ کو انتہا تک پہنچا دینا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق کہ لین شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهيم : ۸) تمہارے انتہائی شکر کو دیکھ کے اپنی رحمتوں اور فضلوں کو پہلے کی نسبت بھی زیادہ کثرت کے ساتھ تم پر نازل فرمائے اور رحمتوں کے نزول کے اس نے جو ذرائع ہمیں بتائے ہیں یا ہم پر جو دروازے کھولے ہیں۔ہم ان کو پہچانیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا ایک دروازہ جو اس نے ہم پر کھولا ہے وہ جلسہ سالانہ ہے ہمارا۔جلسہ سالانہ پر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے شمار برکتیں نازل ہوتی ہیں خدا تعالیٰ کی اور بہت سارے گناہ اور غفلتیں اور کوتاہیاں اور کمزوریاں اور نقائص مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دیئے جاتے ہیں۔احمدیوں کا کثرت سے جلسہ پر آنا بھی ایک معجزہ ہے خدا کے مسیح کا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم