خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 919
خطبات ناصر جلد اول ۹۱۹ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۶۷ء جماعت نے اس سفر سے متعلق اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ مانگا۔یہ مانگا کہ جس غرض کے لئے سفر اختیار کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ اس غرض کو پورا کرے، یہ مانگا کہ ان قوموں پر اتمام حجت ہو جائے اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق دے کہ ان کے جو ذرائع ان تک بات کو پہنچانے والے ہیں وہ مجھ سے تعاون کریں۔اخبار ہیں، ریڈیو ہے، ٹیلی ویژن ہے۔آپس کی گفتگو ہے۔مجھ سے ملنے کے بعد مثلاً ایک شخص دوسری جگہ جا کے باتیں کرتا ہے وہ بھی ایک ذریعہ ہے میری بات کو بعض اور دوسروں تک پہنچانے کا۔تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ مانگا کہ جس غرض کے لئے میں گیا ہوں جو اتمام حجت کرنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ ان قوموں کو اور ان کے نمائندوں کو یہ توفیق عطا کرے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات سے تعلق رکھنے والی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانِ عظیم سے تعلق رکھنے والی اور قرآن کریم کے نور اور اس کے حسن اور اس کی خوبی سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کے کانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں یہ لوگ میری باتیں ان کے کانوں تک پہنچا دیو ہیں۔آپ نے یہ بھی مانگا جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء کہ اللہ تعالیٰ مجھے خیریت سے رکھے اور اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی توفیق عطا کرے اور پھر خیریت سے واپس لے کے آئے۔ہر آن ہمیں اس کے فضل کی ضرورت ہے اس کے سہارا کے بغیر تو ہم ایک سانس بھی نہیں لے سکتے تو میں آپ کے لئے دعائیں کرتا ہوں آپ میرے لئے دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صحت کے ساتھ زندگی عطا کرے اور توفیق دے کہ اس خدمت کو احسن طور پر بجالاؤں جو میرے سپرد کی گئی ہے اور آپ وہ کام بجا لا ئیں جو آپ کے سپر د کیا گیا ہے۔تو بہت کچھ مانگا جماعت نے اور میں نے۔گویا ہم سب نے مل کے۔کیونکہ ہمارا ایک ہی وجود ہے لیکن ہم نے جو مانگا وہ غیر محدود نہیں تھا معدودے چند نیک خواہشات تھیں جن کے پورا ہونے کے لئے دعا کی گئی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس آیت میں وعدہ کیا ہے آپ کی دعاؤں کو قبول کر کے وہ بھی دیا جو آپ نے اس سے مانگا تھا۔واسکم مِنْ كُلِّ مَا سَالَتُمُوهُ جو بھی آپ نے مانگا وہ بھی اس نے دیا اور اس سے بڑھ کر دیا۔وَإِن تَعدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا اتنا دیا کہ ہم اس کا شمار نہیں کر سکتے۔بارش کے قطروں کا گن لینا ممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا شمار بالکل ممکن نہیں قطعاً ناممکن ہے اور ان دنوں میں تو