خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 76
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۶ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء نیز دعاؤں پر بھی بہت زور دینا چاہیے اور قرآن شریف کی تلاوت کثرت سے کرنی چاہیے اور یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمیں رمضان کی آخری دس راتوں میں لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی خاص گھڑی میسر آجائے اور خدا کرے کہ ہم اس گھڑی میں صرف اپنی ذات کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کے دین کے لئے بھی اس سے مانگیں اور اس گھڑی میں ہمارے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے ہوں کہ اے خدا! اسلام کا غلبہ تو مقدر ہو چکا ہے لیکن تو ہم پر یہ فضل فرما کہ ہم اپنی زندگیوں میں اپنی آنکھوں سے اسلام کو ساری دنیا پر غالب ہو تادیکھ لیں۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے بعد نماز شروع ہونے سے قبل فرمایا۔دوست یہ یادرکھیں کہ پاکستان کے استحکام کا جو تعلق دعاؤں کے ساتھ ہے اس کی ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی ہے۔اس وقت ایسے آثار ظاہر ہو رہے ہیں کہ خدانخواستہ کہیں ہمارے ملک میں قحط نہ پڑ جائے۔کیونکہ بڑی دیر سے بارشیں نہیں ہو رہیں جمعہ میں قبولیت دعا کی ایک گھڑی کی بشارت ہمیں دی گئی ہے۔سو دوست کثرت سے نماز میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ، ہمارے ملک پر رحم کرے اور ہمیں قحط کے خطرہ سے محفوظ رکھے اور ہر رنگ میں رحمتوں کی بارش ہم پر نازل کرے اور ہماری زمینوں کو یہ قوت بخشے کہ اس بارش کو قبول کرے۔بہترین کھیتیاں ہمارے لئے اُگائے۔میں دوسری رکعت کے پہلے سجدہ میں خاص طور پر بارش کے لئے دعا کروں گا۔آپ دوست بھی میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہو جائیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ /جنوری ۱۹۶۶ء صفحه ۲ تا ۴)