خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 73
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء کیونکہ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو ان تفاصیل کا علم نہیں رکھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً با قاعدگی کے ساتھ گیارہ رکعت بمع وتر پڑھا کرتے تھے پھر احادیث میں اختلاف ہے۔بعض میں ہے کہ آپ دو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر تے اور آخر میں ایک رکعت پڑھ لیتے۔لیکن بعض روایات میں ہے کہ چار چار رکعتوں کے بعد سلام پھیر تے۔پھر تین رکعتیں پڑھ لیتے (وتر کی) اور بعض روایات میں گیارہ سے کم رکعتیں پڑھنے کا ذکر بھی ہے۔تو میں عام طور پر گیارہ رکعتیں ، اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بعض روایات میں جو اختلاف ہے وہ وقت کے تقاضوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے لیکن عام روایت یہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ نوافل رات کے پچھلے حصہ میں پڑھا کرتے تھے۔آپ دوست جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش ان حجروں میں تھی جن کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے۔ایک دفعہ آپ پچھلی رات نماز تہجد کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے کچھ لوگوں نے جو حضور کو دیکھا تو انہوں نے بھی حضور کے پیچھے نماز شروع کر دی۔اگلے روز کچھ اور لوگوں کو پتہ چلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز تہجد مسجد میں ادا کرتے ہیں۔تو وہ بھی آگئے۔تیسری یا چوتھی رات مجمع اور بھی بڑھ گیا۔یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔اس رات آپ باہر نہ نکلے اور اپنے حجرے میں نماز ادا کر لی اور صبح فرمایا کہ اگر اس طرح روایت اور سنت بن جاتی کہ تہجد کے وقت نماز باجماعت ادا کی جائے تو میری اُمت کے بہت سے لوگوں کے لئے یہ مصیبت ہو جاتی۔کیونکہ فرائض میں سے شمار کی جانے لگتی۔( کس قدر ہمارا خیال رکھنے والی تھی وہ مقدس روح ؟؟ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں سلام ہوں اس پر !!! ) فرمایا آج میں اس لئے نہیں آیا کیونکہ یہ نوافل ہیں فرائض میں سے نہیں۔چنانچہ بعد میں اسی پر عمل ہوتا رہا۔حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ بھی گزر گیا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ کا بھی ایک حصہ گزر گیا۔ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ چکر لگا رہے تھے آپ نے عشاء کے بعد دیکھا کہ کوئی شخص