خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 72
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۲ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۶۵ء یہ ہو کہ محض الفاظ کو دہرا دینا ہے عمل ضروری نہیں تو ایسا شخص قرآن کریم سے کوئی برکت حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں میں بعض کمزوریاں دیکھیں تو فرمایا کہ قرآن کریم تو اس لئے نازل ہوا تھا کہ اس پر عمل کیا جائے مگر بعض لوگوں نے اس کی تلاوت کو ہی سارا عمل سمجھ لیا ہے یعنی سمجھتے ہیں کہ صرف یہ کافی ہے کہ قرآن کریم کو پڑھ لیا جائے اور یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ جو احکام قرآن کریم نے ہمیں بطور اوامر یا نوا ہی دیئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ حدیث بھی منسوب ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا أَفْضَلُ عِبَادَةِ أُمَّتِى تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ کہ میری اُمت کی سب سے بڑی فضیلت رکھنے والی عبادت تلاوت قرآن ہے۔مذکورہ حدیث کے یہی معنی ہیں کہ قرآن کریم کو پڑھا جائے پھر اس کو سمجھا جائے اور پھر سمجھ ، طاقت اور استعداد کے مطابق اس پر عمل بھی کیا جائے۔بہر حال یہ ایک نفلی عبادت ہے جس کا رمضان کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ایک اور نفلی عبادت جس کا رمضان سے تعلق ہے وہ رمضان میں رات کو اٹھنا اور نماز تہجد ادا کرنا ہے۔بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:۔مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ کہ جو شخص بھی رمضان کی راتوں میں اُٹھتا اور نوافل ادا کرتا ہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ جھکتا اور اخلاص اور تضرع کے ساتھ اس سے یہ دعا مانگتا ہے کہ وہ خدائے غفور و رحیم اس کی خطاؤں کو معاف کرے اور روحانی ترقیات کے دروازے اس پر کھول دے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس کے سارے پچھلے گناہ جو اس نے اس وقت تک کئے ہوں معاف کر دیئے جائیں گے۔یہاں میں مختصراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کے متعلق کچھ بتا دینا چاہتا ہوں۔