خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 857
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۵۷ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء نے اپنی بیوی کو تبلیغ کر کے احمدی کیا وہ اس کا نام رکھوانا چاہتے تھے کیونکہ اسے احمدیت قبول کئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم اکیلا ملنا چاہتے ہیں۔ان کی بیوی اور ایک چھوٹی بچی ہے دو اڑھائی سال کی بڑی پیاری۔سب ملنا چاہتے ہیں۔میں نے ان کو وقت دے دیا۔اتفاقاً ان کی بیوی تو بیمار ہوگئی تو وہ خودا کیلئے آئے میرے سامنے جب آکر بیٹھے تو میں نے دیکھا کہ وہ کانپ رہے ہیں اور خاموش ہیں بات کرتے ہیں تو ایک فقرہ بھی ان کے منہ سے پورا نہیں نکل سکتا۔اس قدر جذباتی ہو گئے تھے۔میں نے ان سے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں پانچ سات منٹ تک میں باتیں کرتا رہا ان کے حالات وغیرہ کے متعلق۔جب باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ اب ی شخص اپنے نفس پر قابو پاچکا ہے اور جذبات بے قابونہیں ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا کام ہے تو کہنے لگے کہ میں نے اپنی بیوی کا نام رکھوانا ہے اور بچی کا۔بیوی کا نام میں نے ”محمودہ “ رکھا اور بچی کا نام رکھا ” نصرت جہاں کیونکہ نصرت جہاں ہمیں مسجد بھی ملی اور ایک بچی بھی اللہ تعالیٰ نے دی۔بچی کا نام نصرت جہاں سن کر تو اس کی باچھیں کھل گئی میرا خیال ہے کہ اس کی اپنی خواہش ی تھی کہ یہی نام رکھا جائے لیکن اس نے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔خیر نام رکھا گیا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کا جسم پھر کانپنا شروع ہو گیا اور اس کے ہونٹ پھڑ پھڑانے لگے اور بڑی مشکل سے اس نے یہ فقرہ ادا کیا کہ دل میں جو جذبات ہیں وہ زبان پر نہیں آسکتے۔“ یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا۔میں نے اسے گلے سے لگالیا۔اس نے السلام علیکم کہا اور چلا گیا۔آنکھیں اس کی آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں بات ہی نہیں کر سکتا تھا اس قسم کا جذباتی ہو رہا تھاوہ ، اور تھا وہ اس قوم میں سے کہ اگر اس کا باپ بھی مرجا تا تو وہ نہ بتا تا کہ اس کا باپ مر گیا ہے اور نہ چہرے پر غم کے آثار ظاہر ہوتے لیکن اب ان کے دل اللہ تعالیٰ نے بدل دئے ہیں اب وہ ایسی قوم بن گئے ہیں کہ اپنے اخلاص اور تقویٰ اور اس فضل کی وجہ سے اور اس رحمت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ ان پر نازل کر رہا ہے اس پیار کی وجہ سے جس کے وہ نمونے دیکھتے ہیں۔یہاں کے مخلص بزرگوں کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں اب ان کی حیثیت ایک شاگرد کی نہیں رہی وہ شاگرد کی