خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 858 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 858

خطبات ناصر جلد اول ۸۵۸ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۶۷ء حیثیت سے آگے بڑھ گئے ہیں اور جس طرح یہاں کے مخلصین دنیا کے استاد ہیں اور استاد ثابت ہو رہے ہیں اسی طرح وہ بھی دنیا کے استاد ثابت ہو رہے ہیں اور اگر ہم نے سستی سے کام لیا اور وہ قربانیاں نہ دیں جو ہمیں دینی چاہئیں ایسے احمدی کی حیثیت سے جن کا مرکز کے ساتھ تعلق ہے اور جو پاکستان میں رہنے والے ہیں۔نیز اگر ہم نے اپنی نسلوں کی اعلیٰ تربیت نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ تحریک غلبہ اسلام کا مرکز ایسی قوم میں منتقل کر دے گا جو اس کی راہ میں سب سے زیادہ قربانی دینے والی ہو گی۔بے شک ہمیں ایک عظیم بشارت دی گئی ہے مگر یہ بشارت ہم پر ایک عظیم ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے جس کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا از بس ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی تو کسی سے رشتہ داری نہیں ہے اس لئے اس عظیم ذمہ داری کے پیش نظر ہمیں ہر وقت ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں کہ ہماری غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں کہیں اللہ تعالیٰ سلسلہ کے مرکز کو ہم سے چھین کر یا ہماری نسلوں سے چھین کر کسی اور کے سپرد نہ کر دے بوجہ اس کے کہ وہ ہماری یا ہماری نسلوں کی نسبت زیادہ قربانیاں دینے والے اور اللہ سے زیادہ محبت کرنے والے اللہ کی راہ میں فدائیت اور ایثار کے بہتر نمونہ دکھانے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق دے بہتر سے بہتر خدمت دین اسلام کی۔لیکن اللہ تعالیٰ ہم میں کوئی خامی اور نقص اور کمزوری پیدا نہ ہونے دے ہمیں دعا ئیں بھی کرنی چاہئیں اور کوشش بھی کرنی چاہیے کہ اس کی توفیق سے ہم ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن طور پر نبھاتے رہیں۔اس وقت انسانیت جس دور میں سے گذر رہی ہے وہ انسانیت کے لئے بڑا ہی نازک دور ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب میں موجودہ انسان کے حالات پر غور کرتا ہوں تو میرا چین چھن جاتا ہے اور مجھے بڑی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے کیونکہ اس دور میں اگر کسی انسان پر باقی سب انسانوں کو ہلاکت اور تباہی سے بچانے کی ذمہ داری پڑتی ہے تو وہ ہم ہیں اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا نہ کریں تو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوں گے اور دوسری طرف ہم ذمہ دار بن جائیں گے ان قوموں کی ہلاکت کے۔کیونکہ جو ان سے تعلق رکھنے والی ہماری ذمہ داریاں تھیں وہ ہم نے پوری نہیں کیں حقیقت یہ ہے (اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو