خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد اول ۶۷ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۶۵ء ہوتے ہیں اور کتاب ان فرائض کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو وحی کے ذریعہ بطور شریعت انسان کو دیا جاتا ہے۔فرما یا کہ تم روزے اس نیت سے رکھو۔یا یہ کہ ہم نے روزوں کو تم پر اس لئے فرض کیا ہے کہ تا تم یہ سبق سیکھو کہ کتاب اللہ ( یعنی آسمانی شریعت) کو اور اس کے تمام احکام کو اپنا مطلوب بنانا ہے۔گویا وَ ابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللہ لکھ کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرائض تمہارے لئے مقرر کئے ہیں۔ان کو اپنا مطلوب اور مقصود بناؤ۔(اس کی قدرے زیادہ تفصیل میں آئندہ جا کر بیان کروں گا۔جہاں روزہ کی حکمت بیان کی جائے گی )۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزے کے دو حصے ہیں۔ان دونوں کے درمیان اس بنیادی اصل کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔کہ ہم نے روزے کو اس لئے فرض کیا ہے تا تم یہ سمجھ لو اور خوب پہچان جاؤ کہ تمہاری ترقیات کے لئے یہ ضروری ہے کہ تم سب فرائض کو اپنی زندگی کا مقصود اور مطلوب ٹھہراؤ۔ابتغاء کا ایک اور مفہوم بھی چسپاں ہو سکتا ہے۔وہ مفہوم ہے تجاوز کر جانا۔یہ تجاوز کبھی بڑا ہوتا ہے کبھی اچھا یہ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے تو یہاں فرمایا وَ ابْتَغُوا ما كتب الله لكم کہ اگر تم مقام محمود کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو فرائض تک ہی نہ ٹھہر جانا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھنا اور نوافل کے ذریعہ مقام محمود کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔اسی لئے رمضان کے روزوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نوافل جیسا کہ میں بعد میں بتاؤں گا بیان فرما دیئے ہیں۔تو وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ تم فرائض کے علاوہ نوافل کی طرف بھی متوجہ رہنا۔اس کے بغیر تمہیں مقام محمود حاصل نہیں ہوسکتا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد صبح سے رات تک روزوں کی تکمیل کرو۔ماہ رمضان کے ساتھ جو فرض تعلق رکھتا ہے وہ ہے روزہ رکھنا۔اب یہاں ہمیں یہ بتایا کہ روزہ صبح سے لے کر شام تک رکھنا ہو گا اور اس روزے کے وقت میں جہاں کھانے پینے سے رکنا ہو گا وہاں جنسی تعلقات سے بھی احتراز ضروری ہوگا۔