خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 66

خطبات ناصر جلد اول ۶۶ خطبہ جمعہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء عرب کے دستور کے مطابق اور ان کے خیال کی رو سے روزے کے دنوں میں ایسا فعل رات کو بھی جائز نہیں خیال کیا جاتا تھا فرمایا وہ تمہارے لئے ایک قسم کا لباس ہیں۔یعنی تقویٰ کا ایک پیرہن تم ان کے ذریعہ حاصل کرتے ہو۔اسی طرح تم بھی ان کے لئے تقویٰ کا پیرہن ہو۔گویا تم ایک دوسرے کے لئے تقویٰ اللہ کے بعض تقاضوں کے پورا کرنے کا ذریعہ بنتے ہو۔اس کے بعد فرما یا عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمُ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ اَنْفُسَكُمُ الآية کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے یہ حق تلفی کرنے کے معنی نئے ہیں۔کیونکہ پہلی بار غالباً حضرت مصلح موعود (رضی اللہ عنہ ) نے تفسیر صغیر میں یہ معنی بیان فرمائے ہیں۔ورنہ پہلے مفسر اس کا کچھ اور ہی ترجمہ وتفسیر کیا کرتے تھے۔تو فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے اور جہاں تک تسکین نفس کی تمہیں اجازت دی گئی ہے۔تم اس سے بھی پر ہیز کرتے تھے۔یہ دیکھ کر اس نے اپنے فضل سے اپنا یہ حکم تمہارے لئے کھول کر بیان کر دیا۔اور عفا عنكم اس طرح تمہاری حالت کی اصلاح کر دی اور تمہاری عزت کے سامان کر دیئے۔9191 یہاں خدا تعالیٰ نے ایک بنیادی اصول کی طرف بھی متوجہ کیا ہے۔اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں کی تعیین اگر بندہ اپنے طور پر کرنے لگے۔تو وہ اپنے حقوق بھی تلف کر جاتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا تو کہنا ہی کیا۔اس لئے دین کے معاملہ میں یہ ضروری تھا کہ قرب کی راہوں اور شریعت کے اصول کی تعیین آسمان سے وحی الہی کے ذریعہ کی جائے۔ورنہ انسان غلطیاں کرے گا اور اپنے بھی اور دوسروں کے حقوق بھی تلف کر دے گا۔تو فر ما یا فالن بَاشِرُوهُنَّ اسی لئے ہم نے تمہارے حقوق کی حفاظت کے لئے اس شریعت کو نازل کیا ہے اور تمہارے فائدے کے لئے ہی سب احکام اُتارے گئے ہیں۔پس اب تم بلا خوف لَوْمَةً وَلا ہم اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے۔اس کی جستجو کرو۔وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ کے دو اور معنی بھی ہیں۔اوّل بنی کے معنی طلب کرنے کے