خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 802
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۰۲ خطبه جمعه ۴ را گست ۱۹۶۷ء کی طرف متوجہ ہو جائیں۔عقلی دلائل یہ سننے کو تیار نہیں ان کو تو دعا ہی خدا تعالیٰ کی طرف لاسکتی ہے۔دلائل کے علاوہ دوصورتیں رہ جاتی ہیں۔ایک یہ کہ اگر یہ اپنے خالق حقیقی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو عذاب الہی ان پر نازل ہو جائے گا۔جس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔دوسرے ملائکہ کا نزول ہو جو ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیریں۔لیکن اس کے لئے بھی دعاؤں کی ضرورت ہے خصوصاً رات کے وقت کی دعاؤں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فرشتوں کے نزول کے ذریعہ انقلاب عظیم پیدا فرمائے گا اور خواہ میرا ذ کر کہیں پہنچے یا نہ پہنچے۔خدا تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ لوگوں کے دلوں میں تغیر پیدا کریں گے اور ان کو حق کے قبول کرنے اور اسلام پر عمل کرنے کی طرف لائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں یسوع مسیح کی محبت یورپ میں بسنے والوں کے دلوں میں بہت زیادہ رچی ہوئی تھی اور یہ لوگ عیسائیت پر ایمان لائے بغیر نجات کو ناممکن سمجھتے تھے لیکن آج خدا تعالیٰ نے ملائکہ کے نزول کے ذریعہ سے ان کے دلوں سے عیسائیت کے بت سے نفرت پیدا کر دی ہے۔یہاں تک کہ خود عیسائی پادری بھی یسوع مسیح پر الزام لگانے میں پیش پیش ہیں۔نیز ایک عظیم بنیادی گناہ شرک دنیا سے مٹ رہا ہے اور اس سے کمتر گناہ یعنی دہریت نے اس کی جگہ لے لی ہے اس میں شک نہیں کہ شرک اور دہریت ہر دو ہی بڑے گناہ ہیں لیکن دہریت شرک سے کم ہے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو نہ ماننا اتنا بڑا گناہ نہیں جتنا شرک کرنا کیونکہ دہریہ تو روحانیت سے بالکل بے بہرہ ہے لیکن مشرک خدا تعالیٰ کو پہچان کر اس کے ساتھ شریک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ گناہ یقیناً دہریت سے زیادہ ہے اسی لئے قرآن کریم نے بار بار یہ فرمایا ہے کہ شرک کا گناہ معاف نہیں ہوسکتا۔غرض ایک بڑے گناہ سے ہٹ کر یہ اقوام ایک نسبتاً چھوٹے گناہ کی طرف آ رہی ہیں اور ایک بڑی روک جو جذباتی تھی یعنی مسیح سے پیار اس کو فرشتوں نے مٹا دیا ہے۔اب ایک خلاء پیدا ہوتا جا رہا ہے۔اس خلاء کو اللہ تعالیٰ احمدیت اور اسلام کے ذریعہ ہی پُر کرے گا۔انشاء اللہ۔