خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 790 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 790

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۹۰ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء پوچھنے لگا کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے لی ہے؟؟ کہتے ہیں کہ جب اس نے یہ سوال کیا تو میں نے دیکھا کہ آپ آئے ہیں۔ایک مسجد ہے اس کی محراب میں کھڑے ہو گئے ہیں تو میں بھاگ کے آپ کے پاس پہنچا ہوں، یعنی یہ سارا کشفی نظارہ ہے اور میں پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے لی ہے؟؟ تو میں نے حافظ صاحب کو جواب دیا کہ ہاں!!! میں نے اجازت لے لی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑی مبارک بشارت اور بڑی اعلیٰ درجے کی کامیابی کی خبر دی ہے تو اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس سے ہٹ کے پھر اسی بزرگ کے پاس (جو سفید کپڑوں میں ملبوس تھے ) آ گیا اور کافی لمبا عرصہ وہ مجھ سے عربی میں گفتگو کرتے رہے۔تو بیسیوں خوا ہمیں ایسی ہیں اس خواب میں بھی ،سانپ کا ایک ذکر ہے۔خود میں نے خوا ہیں دیکھی تھیں کہ راستے میں کچھ پریشانی ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں پریشانی اور دکھ کا سوال ہے وہ تو خدا تعالیٰ کے بندے کے لئے دکھ نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کسی نے سوال کیا کہ خدا کے بندوں کو دکھ کیوں پہنچتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ان سے جا کر پوچھو کہ وہ دکھ سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں۔تو جب وہ دکھ سمجھتے ہی نہیں تو تمہارے اعتراض کے کیا معنی؟؟؟ تو وہ تو کوئی چیز ہی نہیں لیکن اگر اصل مقصد حاصل ہو جائے اگر ہم اسلام کی فتح کے دن جلد لانے میں کا میاب ہو جا ئیں اتمامِ حجت کے بعد ان اقوام کی تباہی کی وجہ سے یا اتمام حجت کے بعد ان اقوام کو حلقہ بگوش اسلام بنانے کی وجہ سے جس طرح بھی ہو ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے۔اصل خوشی ہماری غلبہ اسلام میں ہے۔اصل خوشی ہماری اس چیز میں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ یہ شیطان اور رحمن کی آخری جنگ ہے اور اس میں مقدر ہے کہ شیطان کا سر کچلا جائے تو ہم اپنے رب سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! جو فیصلہ تو آسمانوں پر کر چکا ہے زمین پر ہماری زندگیوں میں اسے جاری کر دے۔جاری تو وہ ضرور ہوگا بعد میں آنے والی نسلیں اس غلبہ کو دیکھیں گی اس دنیا میں بھی۔اُس دنیا میں جا کے تو خوشی ہی خوشی ہے مومن کو۔اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں ہم میں سے ہر ایک کو لپیٹے ) تو جس کو مغفرت مل گئی وہاں تو کوئی رنج نہیں ہے۔لیکن انسان کی طبیعت کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کے حق میں جو فیصلے ہیں ہماری زندگیوں میں