خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 789 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 789

خطبات ناصر جلد اول ۷۸۹ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء نہیں رہا اور جب میں نے یوں دیکھا تو ان کے اندر بھی زندگی پیدا ہوئی اور انہوں نے ہونٹ ہلانے شروع کئے۔لیکن میں یہ نہیں سمجھا کہ یہ ہونٹ قرآن کریم کی تلاوت یا خدا تعالیٰ کی حمد کر رہے ہیں لیکن ہونٹوں کو ملتے ہوئے میں نے دیکھا اور کہنے والے نے اس وقت یہ کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں ہمارے جو مر چکے ہیں تو میں نے اس کو جواب دیا جو تمہارے لوگ مر چکے ہیں مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں اور یہ کہہ کر کہ مجھے ان سے کوئی دلچسپی نہیں میں اپنی بائیں طرف گھوم گیا اور وہاں کچھ قرآن مجید رکھے ہوئے تھے میں نے انہیں غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ویسے تو بڑی مبشر خواب ہے اس کے دو حصے یہ بھی ہیں کہ ان اقوام کا ایک حصہ اسلام کی طرف مائل ہو جائے گا اور کچھ حصے جو ہیں انہوں نے اپنے لئے ہلاکت اور موت کو اختیار کرنا ہے۔ہمیں جس چیز میں دلچسپی ہے وہ یہ ہے کہ جتنوں کو ہم موت اور ہلاکت سے بچاسکیں ہم انہیں بچالیں۔حافظ مبارک احمد صاحب نے جو آج کل سندھ میں ہیں مجھے لکھا ہے ( خط جو مجھے ابھی ابھی دراز سے ملا ہے ) کہ انہوں نے دو تین خواہیں دیکھی ہیں ان میں سے ایک یہ کہ حضرت مسیح موعود السلام تشریف لائے ہیں۔حافظ صاحب لکھتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا پھر مصافحہ کیا اور پھر سامنے کھڑا ہو گیا اتنی دیر میں ایک سانپ اُڑتا ہوا آیا اور ہم دونوں کے درمیان میں آکر گرا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے اوپر پاؤں رکھا اس کا سر کچلا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔کہتے ہیں تب میں نے دیکھا کہ یہ اصل سانپ بھی نہیں تھا بلکہ بچوں کا کھلونا تھا تو لکھتے ہیں کہ تعبیر میرے ذہن میں یہ آئی کہ مخالفت ضرور ہوگی کسی نہ کسی رنگ میں لیکن اس کی حیثیت بچوں کے کھلونے سے زیادہ نہ ہوگی۔دوسرا انہوں نے لکھا کہ میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک بزرگ سفید کپڑوں میں ملبوس میرے پاس آیا ( یعنی حافظ صاحب کے پاس جنہوں نے خواب دیکھا ) اور اس نے مجھ سے عربی میں باتیں شروع کیں تو حافظ صاحب سے وہ پوچھتا ہے کہ تمہیں پتہ ہے حضرت امیر المومنین یورپ کے سفر پر جارہے ہیں؟؟؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں مجھے علم ہے۔اس پر وہ مجھے کہنے لگا