خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 788
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۸۸ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء مختلف رنگوں کی نکل رہی تھی وہ سب کیلے کا ہے یعنی کیلے ہیں اس طرح ترتیب سے رکھے ہوئے کہ انہی سے الفاظ بنتے ہیں اور ان کے اندر سے ہی روشنی نکل رہی ہے۔کیلا اپنی تاثیر کے لحاظ سے بہت اچھا ہے اور درمیان میں ساری دیوار کے اوپر جو سجاوٹ ہے وہ خشک پھل کی ہے۔بادام اور پستہ اور اس قسم کی دوسری جو چیزیں ہیں ان کے ہی سارے پھول بنائے گئے ہیں اور ان سے ہی وہ شعر لکھے گئے ہیں اور حروف بنائے گئے ہیں اور ہر ٹکڑا جو ہے یعنی ایک بادام جو ہے اس کے اندر سے روشنی نکل رہی ہے۔کسی میں سے سرخ کسی میں سے سبز، کسی میں سے کچھ اور قسم کی مختلف روشنیاں ہیں اور وہ اندر سے پھوٹ پھوٹ کر جس طرح پانی بہہ رہا ہوتا ہے چشمہ سے نکل کے اسی طرح روشنیاں نکل رہی ہیں ان سے۔پھر میں نے دیکھا تو دائیں طرف ایک کمرہ جوا کیلا ہی ہے اس حصہ کا اور اس بازو کا اس پر میری جب نظر پڑی یعنی مجھے خیال نہیں آتا خواب میں کہ اس وقت اُبھری ہے لیکن میری نظر پڑی تو ہیں فٹ اونچائی اور بارہ پندرہ فٹ چوڑائی کی دیوار کے اوپر ایک عورت کی تصویر ہے اور جب میں نے اس کو غور سے دیکھا تو مجھے یہ نظر آیا کہ وہ عورت قیام میں ہے۔اس طرح اس نے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں ، آنکھیں اس کی نیچی ہیں سجدہ گاہ کی طرف اور سر ڈھکا ہوا ہے تو میرے دیکھتے دیکھتے یعنی پہلے تو میں سمجھا تھا کہ تصویر ہے دیوار کے او پر بن گئی لیکن میرے دیکھتے دیکھتے اس میں زندگی پیدا ہوئی اور اس کے ہونٹ ہلنے لگے اور ہے وہ کافی فاصلے پر مجھ سے کیونکہ میں اس کے مقابلہ پر کاؤچ کے اوپر بیٹھا ہوا ہوں لیکن وہ بڑی نمایاں مجھے نظر آ رہی ہے اور اس کے ہونٹ اس طرح ہل رہے ہیں جس طرح وہ سورۃ فاتحہ پڑھ رہی ہو یا قرآن کریم کی کوئی اور سورۃ پڑھ رہی ہو اور پھر اس کے بعد میں نے دیکھا کہ دائیں طرف مجھے وہ لے گئے ہیں دکھانے کے لئے تو جو دائیں طرف کمرہ تھا جب میں وہاں پہنچا ہوں میں اور جو میرے ساتھی ہیں تو جو سب کا مالک اور ان کا کرتا دھرتا ہے اس نے مجھے کہا یہ دیکھیں دائیں طرف !!! اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا جب میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں پانچ آٹھ گز کی کارڈ بورڈ پر جس طرح کارڈ پر آدمیوں کی شکلیں بنائی گئی ہوں اس طرح پہلو بہ پہلو وہ کھڑی ہیں وہ پانچ شکلیں جن میں سے یا دو عورتیں تھیں یا تین لڑکیاں دو مرد یا دولڑ کیاں اور تین مرداب مجھے یاد