خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 783
خطبات ناصر جلد اول ۷۸۳ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء کر رہے ہو تم۔اپنے نفسوں پر ظلم، اپنی نسلوں پر ظلم۔یہ پیشگوئیاں ہیں جو پوری ہوچکی ہیں اور یہ وہ واقعات ہیں جن کے پورا ہونے کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا تھا اس وقت جس دن یہ اعلان کیا گیا تھا کہ یوں واقع ہوگا اور یہ ایک سلسلہ ہے یوں ہوگا یوں ہوگا یوں ہوگا یوں ہوگا اور اس کے آخر پر یہ ہے کہ غلبہ اسلام ہوگا وہ غلبہ اسلام خدا کے فیصلہ کے مطابق اس دنیا میں ضرور ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کی کوئی طاقت جو ہے مٹا نہیں سکتی۔غلبہ اسلام دو طرح ہو سکتا ہے یا یہ قومیں مسلمان ہو جا ئیں یا یہ قومیں تباہ ہو جائیں کیونکہ اسلام کے دشمن ہیں۔تو ان کو یہ بتانا ہے انشاء اللہ جا کے کہ تم تباہ ہونے کا جو راستہ ہے۔اس کی بجائے بچنے کا۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول کے راستے کو اختیار کرو۔یہاں بھی میری طبیعت پر اثر ہے کہ ہم لوگ انذاری حصے کو نمایاں نہیں کرتے۔تھوڑی سی مزاحمت پیدا ہوگئی ہے ہمارے میں اور یہ ظلم ہے۔یعنی اگر حقیقت سچا جذ بہ ہمدردی اور غمخواری کا ہے اور آپ کو نظر آ رہا ہے کہ آپ کا ایک بھائی تنور کے کنارے پر کھڑا ہے اگر یہ گر گیا تو جل جائے گا ، راکھ ہو جائے گا۔اس کے وجود کا نام و نشان مٹ جائے گا۔اس وقت آپ کہیں جناب عالی ! ذرا ! دھر متوجہ ہوئیے اور قبل اس کے کہ آپ اپنا فقرہ ختم کریں وہ اندر جا پڑے اس وقت تو ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو پکڑ کر بازو سے اسے جھٹکا دے کے پیچھے کریں۔کہاں جارہے ہو تمہیں نظر نہیں آرہا آگے کیا ہے تمہاری ہمدردی کا یوں جذبہ ہونا چاہیے !!! ۱۹۴۷ ء کی بات ہے مسجد اقصیٰ ( قادیان) کے غربی دروازہ پر بعض ہمارے بھائی اور بہنیں تھیں جو احمدی نہیں تھے۔وہاں وہ پھنس گئے تھے ان کو نکالنے کے لئے میں سامان کر رہا تھا میں اور میرے ساتھی۔تو اوپر سے ایک سکھ بندوق لئے ہوئے آیا سامنے جو مکان تھا اس کی چھت پر ، وہ رائفل اپنی یوں اُٹھا رہا تھا میری طرف نشانہ باندھنے کے لئے تو میرا ایک ساتھی جو میرے پاس کھڑا تھا اس کی اس پر نظر پڑ گئی۔میری نظر اس طرف نہیں گئی کیونکہ میں دوسرا کام کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کرنی تھی اس کے دماغ کو صحیح راستہ پر ڈال دیا اگر وہ مجھے کہتا کہ میاں صاحب ! جناب! آپ کی جان بڑے خطرہ میں ہے مہربانی فرما کر آپ اندر ہو جائیں تو