خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 784
خطبات ناصر جلد اول ۷۸۴ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء اتنے عرصہ میں اس کی رائفل چل پڑتی۔اس نے ایک لفظ مجھ سے نہیں کہا اس نے اتنے زور سے مجھے دھکا دیا کہ میں پلٹیاں کھاتا ہوا مسجد کے اندر چلا گیا اور میں حیران کہ کہیں پاگل تو نہیں ہو گیا میرا یہ ساتھی !!! اس کے بعد ایک قدم لیا اور وہ اندر آ گیا تو مجھے کہنے لگا کہ رائفل کا نشانہ آپ کی طرف ہو رہا تھا اور کوئی صورت نہ تھی۔ایسے وقت میں اپنے بھائی کو یا کوئی بزرگ بھی ہو اس کو دھکا دینا یہ محبت کی علامت ہے۔یہ ہمدردی اور غمخواری کی علامت ہے۔یہ بغض اور حسد اور کینہ کی علامت نہیں ہے۔تو ان لوگوں کو آپ کو سمجھانا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ جو انذاری پیشگوئیاں ہیں ان کے متعلق ایک یہ وعدہ بھی دیا ہے یا اطلاع دی ہے کہ کبھی میں خاموشی اختیار کروں گا اور کبھی میں اپنے قہر کے جلوے دکھانا شروع کروں گا، کبھی میں روزہ رکھوں گا کبھی میں افطار کروں گا۔بیچ میں ایسا زمانہ آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے کہ شاید دلائل کے ساتھ اور محبت کے جو آسمانی نشان ہیں ان کے ساتھ دنیا سمجھ جائے۔کبھی اللہ تعالیٰ اپنے غضب میں ہوتا ہے مجھ پر نا معلوم وجہ سے بھی اور بعض قرائن سے بھی یہ اثر ہے۔میں کہہ سکتا ہوں کہ آج خدا غضب میں ہے۔پس خدا کے اس غضب سے اپنے بھائیوں کو بچانے کے لئے آپ سے ہر ممکن کوشش جو ہو سکتی ہے وہ کریں۔دنیا کے ہر ملک میں جہاں بھی احمدی ہیں ان کا فرض ہے۔اگر آپ پچھلے دو سال کے سارے اس قسم کے واقعات جن سے انسانی جانیں تلف ہوئیں ہیں وہ نکالیں اور ان کا مقابلہ کریں آج کل سے دس سال پہلے کے حالات سے یا سات سال پہلے کے حالات سے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ واقعی خدا غضب میں ہے۔زلزلے ہیں، طوفان ہیں ، قحط ہیں ، آسمان کا پانی خشک ہو رہا ہے زمین کا پانی خشک ہو رہا ہے۔ابھی راستہ میں ہی میں نے ایک خط پڑھا دیہات کے ایک احمدی دوست کا کہ اب تاریخ کے لحاظ سے مون سون کا موسم ہو گیا ہے مگر بارش کوئی نہیں ہوئی۔خبریں یہ آئی تھیں کہ بعض گاؤں والے پینے کے لئے پانی پندرہ پندرہ میل سے لا رہے ہیں۔پندرہ میل کے اندر اور کوئی کنواں نہیں جس کا پانی خشک نہ ہو چکا ہوں بعض جگہوں کے متعلق یہ خبر بھی تھی کہ حکومت نے وہاں گہری کھدائی کے لئے سامان بھیجے تو نیچے سے پانی ہی نہیں ملا۔