خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 780
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۸۰ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء کہ میں ان باتوں سے نتیجہ نکالتا ہوں تو جو اس کے ماننے والے، اس کی قدر کرنیوالے اور اس کو بڑا اچھا دماغ والا سمجھنے والے لوگ بھی سمجھتے کہ اس بچارے کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔لیکن ایک مذہبی انسان دنیا کا جس کو پتہ ہی نہیں ظاہری حالات میں۔جو کچھ اس نے علم حاصل کیا وہ منبع ہے علم غیب کا لیکن ظاہری حالات میں وہ دنیا کو نہیں جانتا اور دنیا اس کو نہیں جانتی اور وہ خبریں دے رہا ہے چین اور جاپان کے متعلق اور پھر وہ پوری بھی ہو رہی ہیں۔پھر شاہی نظام کا روس کے اندر تباہ ہو جانا، اس کی خبر وقت سے پہلے دی بڑی زبر دست پیشگوئی ہے۔یہ ایک بادشاہت کی تباہی کی خبر نہیں بلکہ ایک ایسی بادشاہت کی تباہی کی خبر ہے جس کے بعد وہ چیز پیدا ہونی تھی جس نے دنیا کا رنگ بدل دینا تھا اور وہ کمیونزم ہے۔دنیا میں بادشاہتیں قائم بھی ہوتی ہیں دنیا میں بادشاہتیں جو ہیں وہ مٹتی بھی ہیں۔یہ نہیں کہا کہ مصر کا بادشاہ فاروق تباہ ہو جائے گا اس کی بجائے جمہوریت آجائیگی اگر چہ وہ ایک واقعہ ہونا تھا اگر چہ وہ ایک غیب کا واقعہ تھا۔یعنی وقت سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بتاتے تو یہ علم غیب کی بات تھی جو آپ بتاتے۔لیکن اس قدر اہمیت کی وہ حامل نہیں تھی جتنا کہ زار روس کا تباہ ہونا تھا اور نہ مصر کے بادشاہ کی تباہی ایسی تھی کہ انسان کی تاریخ کا دھارا اس نے بدل دینا تھا۔تو جو بادشاہتیں تباہ ہوتی ہیں۔ان میں سے اس بادشاہت کا انتخاب کیا جس کے نتیجہ میں دنیا کی تاریخ نے رنگ ہی اور پکڑنا تھا پھر کمیونزم کے برسراقتدار آنے کی پیشگوئیاں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا اس لنک میں۔پھر پانچ زلزلوں کی پیشگوئی ہے اور ان کی تفصیل بتائی گئی ہے، جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اس تفصیل پر آپ غور کریں تو اس وقت تک دو واقعات اور ایک کی بعض باتیں ہمارے سامنے آگئی ہیں۔یہ شکل جو اختیار کر سکتی ہے اس کے متعلق تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور ان کو ہم نکال کے جنگ نمبر ایک کے ساتھ ، جنگ نمبر دو کے ساتھ پھر تیسری ہونے والی کے ساتھ ملا کے دیکھ سکتے ہیں۔جیسا کہ ایک بڑی نمایاں چیز میں نے آپ کے سامنے یہ رکھی ہے کہ علاقہ میں زندگی کا خاتمہ یہ ابھی تک نہیں ہوا ناممکن تھا۔لیکن اب ممکن ہو گیا ہے ہمیں نظر آ رہا ہے جہاں ایک ہزار بم گر جائے ایٹم ، وہاں زندگی ختم ہو جائے گی۔کوئی