خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 781 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 781

خطبات ناصر جلد اول ۷۸۱ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء سارا ملک ہوانگلستان جیسا، یا کسی ملک کا پچاس فیصد یا تیس فیصد یادس فیصد لیکن جس جگہ وہ حملہ ہو گا وہاں زندگی باقی نہ رہے گی۔پہلی دو جنگوں میں ایسا نہیں ہوا تیسری عالمگیر تباہی جو ہمارے سامنے آرہی ہے۔اس میں ایسا ہونا ممکن بن گیا ہے۔یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ ایسا ہو جائے گا اس کی ایک وجہ ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا میں مبعوث ہو کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں بڑی بشارتیں لیکر آیا ہوں ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر ایمان لاتے ہیں اور مجھے ڈرانے کا اور انذار کا حکم دیا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو میری طرف منہ نہیں کرتے ، اور اسلام پر ایمان نہیں لاتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہیں سمجھتے۔اپنے رب قدیر کے ساتھ پیار کا اور محبت کا تعلق قائم نہیں کرتے۔کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم یہ باتیں دنیا کو بتائیں اور بغیر کسی مزاحمت کے بتائیں بغیر کسی خوف کے بتائیں ، بغیر اس ڈر کے بتا ئیں ، کہ اگر ہم نے یہ باتیں کیں تو یہ لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں گے یا ہمیں گالیاں دینے لگ جائیں گے یا بُرا بھلا کہنے لگ جائیں گے یا ہمیں تکلیف دینے کی کوشش کریں گے، کیونکہ ہمیں اس لئے پیدا نہیں کیا گیا کہ ہم اپنے نفسوں کو تکالیف دنیوی سے بچائیں ہمیں تو پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ہم دنیا کو تکالیف سے بچانے کی کوشش کریں۔تو یہ باتیں میں چاہتا تھا کہ ان اقوام کے سامنے پیش کروں اب وہاں مجھے خوشی ہے اس لحاظ سے کہ حالات اس لحاظ سے بہتر ہو گئے ہیں کہ وہ چھپا ہوا تعصب جوان لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف تھا وہ مشرق وسطی کی جنگ سے ابھر آیا ہے۔اب کل یا صبح راستہ میں بعض حصے ڈاک کے میں نے پڑھے ہیں۔اس میں یورپ سے یہ خط آیا ہے کہ وہ افسران حکومت سوئٹزر لینڈ جنہوں نے پہلے یورپ کی ریسپشن میں آنا قبول کر لیا تھا ، وعدہ کیا تھا ، ہم آئیں گے انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ اس جنگ کے بعد اب ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔کیونکہ مسلمانوں نے جہاد کا اعلان کر دیا ہے مسلمانوں نے تو زبان سے جہاد کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف سے تو ہر قسم کے ہتھیار لیکر انہوں نے عملاً جا کر اعلان کیا اور بڑی تباہی مچائی اور بڑا مظلوم ہے اس وقت وہاں کا مسلمان۔کئی ملکوں سے تعلق رکھنے والا ، گھروں سے بے گھر ، زخمی ، بالکل جیب میں ایک پیسہ