خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 754
خطبات ناصر جلد اوّل ۷۵۴ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء یعنی احمدیوں میں سے وہ جو ۲۵ سال کی عمر کے اندر اندر ہیں یا جن کو احمدیت میں داخل ہوئے ابھی پندرہ سال نہیں گزرے، اس گروہ کی اگر صحیح تربیت نہ کی گئی تو ان مقاصد کے حصول میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جرى اللهِ فِي حُلّلِ الْأَنْبِيَاء کی شکل میں دنیا کی طرف مبعوث فرمایا اور جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو قائم کیا ہے۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری توجہ اس طرف پھیری کہ اس گروہ کی تربیت کے لئے جو طریق اختیار کرنے چاہئیں ان کا بیان ان آیات میں ہے جن کے اوپر میں خطبات دیتا رہا ہوں اور اگر ان مقاصد کو صحیح طور پر سمجھ لیا جائے اور ان کے حصول کی کوشش کی جائے تو خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ہماری یہ پود صحیح رنگ میں تربیت حاصل کر کے وہ ذمہ داریاں نباہ سکے گی جو ذمہ داریاں عنقریب ان کے کندھوں پر پڑنے والی ہیں۔کیونکہ میری توجہ کو اس طرف پھیرا گیا تھا کہ آئندہ بیس پچیس سال اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے بڑے ہی اہم اور انقلابی ہیں اور اسلام کے غلبہ کے بڑے سامان اسی زمانہ میں پیدا کئے جائیں گے اور دنیا کثرت سے اسلام میں داخل ہوگی یا اسلام کی طرف متوجہ ہو رہی ہو گی۔اس وقت اسی کثرت کے ساتھ ان میں مربی اور معلم چاہئیں ہوں گے وہ معلم اور مربی جماعت کہاں سے لائے گی اگر آج اس کی فکر نہ کی گئی اس لئے اس کی فکر کرو اور ان مقاصد کو سامنے رکھو جوان آیات میں بیان ہوئے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے جس رنگ کی تربیت کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کی روشنی میں اسی قسم کی تربیت اپنے نو جوانوں کو دو۔تاجب وقت آئے تو بڑی کثرت سے ان میں سے اسلام کے لئے بطور مربی اور معلم کے زندگیاں وقف کرنے والے موجود ہوں تا وہ مقصد پورا ہو جائے کہ تمام بنی نوع انسان کو عَلی دِینِ وَاحِدٍ جمع کر دیا جائے گا۔ان خطبات کے دوران ایک بزرگ نے مجھے لکھا کہ آپ کے جو خطبات ہو رہے ہیں ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام سے بھی ہے جو تذکر ہ “ کے صفحہ ۸۰۱ پر درج ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں :۔"جو شخص کعبہ کی بنیاد کو ایک حکمت الہی کا مسئلہ سمجھتا ہے، وہ بڑا عقلمند ہے کیونکہ اس کو