خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 755
خطبات ناصر جلد اول ۷۵۵ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء اسرار ملکوتی سے حصہ ہے۔“ پس میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو میری توجہ کو اس طرف پھیرا خدا یہ چاہتا ہے کہ قوم کے بزرگ بھی اور قوم کے نوجوان بھی قوم کے مرد بھی اور قوم کی عورتیں بھی اس حکمت الہی کو سمجھنے لگیں جس حکمت الہی کا تعلق خانہ کعبہ کی بنیاد سے ہے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُولُوا الالباب ٹھہریں اور اس کی آواز کو اور اس کے احکام کو اور احکام کی حکمتوں کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں اور ان قدوسیوں کے گروہ میں شامل ہوں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کے ہر آن فضل ہوتے رہتے ہیں۔اگر چہ جو منصو بہ یا سکیم میں جماعت کے سامنے رکھوں گا اس کا اصل مقصد ان نوجوانوں کی تربیت ہے جن کی عمر اگر وہ احمدیت میں پیدا ہوئے ہیں تو ابھی ۲۵ سال تک کی ہے یا ان کی عمر اگر وہ جماعت میں نئے داخل ہونے والے ہیں تو ۱۵ سال کی ہے لیکن اس تربیت کے لئے جو ان بچوں کی ہم نے کرنی ہے ان کے بڑوں کی تربیت کرنا ضروری ہے تا کہ وہ اس نسل کی تربیت کر سکیں۔پس دوسرے نمبر پر مخاطب جماعت کے سب مرد اور جماعت کی سب بہنیں ہیں جن کی عمر اس وقت ۲۵ سال سے اوپر ہے کیونکہ ان لاکھوں نوجوانوں کی تربیت جو ۲۵ سال سے کم عمر یا دوسرے لحاظ سے پندرہ سال سے کم عمر کے ہیں صرف میں اکیلا یا میرے چند ساتھی نہیں کر سکتے ہمیں ہر گھر کی تطہیر کرنی پڑے گی تا کہ ہر گھر میں پرورش پانے والا ، خدا کا سپاہی بنے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔ہمیں ہر محلہ ، ہمیں ہر قصبہ ، ہمیں ہر شہر کی پاکیزگی کے سامان پیدا کرنے پڑیں گے تاکہ اسی ماحول میں وہ نسل پیدا ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس پرا اپنی جانیں اور اپنے اوقات اور اپنی عزتیں اور اپنے اموال خرچ کرنے والے ہوں اور قربان کرنے والے ہوں۔شاید مجھے یوں کہنا چاہیے کہ پہلے بڑوں کی تربیت کرنا ضروری ہے تا ان کے ذریعہ سے ان چھوٹوں کی تربیت کی جاسکے جن پر بڑی ہی اہم ذمہ داریاں عنقریب پڑنے والی ہیں۔یا درکھیں اگر ہم نے اس میں غفلت برتی تو ہم پر تو خدا کا غضب نازل ہوگا اور ایک اور قوم پیدا کی جائے گی جو خدا کے وعدوں کی وارث بنے گی پس اپنی جانوں کی فکر کرو اور ان ذمہ داریوں کے نباہنے کے لئے