خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 60
خطبه جمعه ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء خطبات ناصر جلد اوّل ۶۰ قبول تو کرتا ہے لیکن اپنے فضل اور اپنی مرضی سے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گو یا خدا تعالیٰ ہمارا غلام ہے ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ) اس کا فرض ہے کہ ہماری دعا کو اس رنگ میں قبول کرے جس رنگ میں کہ ہم چاہتے ہیں۔لیکن یہ خیال بالکل غلط ہے کیونکہ وہ تو تمام طاقتوں کا مالک ہے اور وہ محض اپنے فضل سے نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے ہمارے لئے قرب کی راہیں کھولتا ہے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔چونکہ وہ عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے۔ہم نہیں جانتے مگر وہ جانتا ہے کہ جو دعا ہم اپنے لئے جس رنگ میں مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لئے اچھی بھی ہے یا نہیں۔تب بعض دفعہ وہ ہماری دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے ہمارے لئے خیر کی راہیں اس طرح کھول دیتا ہے کہ جو ہم نے مانگا تھا وہ نہیں دیتا اور جو ہم نے نہیں مانگا تھاوہ ہمیں دے دیتا ہے۔پھر وہ ہمارے اخلاص اور محبت کے دعوی کی آزمائش بھی کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے دعوی میں سچے بھی ہیں یا نہیں۔پھر بسا اوقات ہماری دعا اور قبولیت دعا کے درمیان بڑا زمانہ گزرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں اس کے متعلق ایک بڑا لطیف نوٹ دیا ہے۔فرما یا:۔غرض ایسا ہوتا ہے کہ دعا اور اس کی قبولیت کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں مگر مستقل مزاج، سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کے بعد نصرت آتی ہے اور ان ابتلاؤں کے آنے میں پھر یہ ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے۔پھر فرما یا فَلْيَسْتَجِيبُوانی کہ دعا کا نشان دیکھ کر مومن بندوں کو یقین کر لینا چاہیے کہ میں نے جو احکام بھی ان کے لئے آسمان سے نازل کئے ہیں وہ ان کی بہتری کے لئے ہی ہیں۔وَلْيُؤْمِنُوا نی چاہیے کہ وہ میری توحید پر ایمان لائیں اور میری صفات کی معرفت حاصل کریں اور تخلق باخلاق اللہ کی طرف وہ متوجہ ہوں اور اس کی تو فیق انہیں صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے۔