خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 59
خطبات ناصر جلد اول ۵۹ خطبہ جمعہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء کہ تم پر بڑے انعامات نازل ہوں گے بڑا فضل نازل ہوگا اور تم خدا کے مقرب بن جاؤ گے تو اس پر میرے بندے کہیں گے کہ ہمارا رب تو محض کبریائی ہے۔محض پاکیزگی ہے۔رفیع الدرجات ہے۔تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے کمال تام اسی کو حاصل ہے اور وہ اتنا ارفع اور اعلیٰ ہے کہ اس کی رفعتوں تک ہمارا تخیل بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی اس کی رفعتوں کی کوئی انتہا ہے۔لیکن جب ہم اپنے کو دیکھتے ہیں تو اپنے کو خطا کار، گنہگار اور نہایت ضعیف پاتے ہیں۔اس طرح ہمارے درمیان اور ہمارے رب کے درمیان لا متناہی فاصلے پائے جاتے ہیں۔کیا ہماری حقیر کوششوں کے نتیجہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکتا ہے؟ فرمایا۔جب میرے بندے تجھ سے اس معاملہ کے متعلق سوال کریں تو تم انہیں کہہ دو کہ بے شک تم کمزور بھی ہو۔تم گنہگار بھی ہو۔تم خطا کا ر بھی ہو۔میں تمام بلندیوں کا مالک اور تمام رفعتیں میری طرف ہی منسوب ہوتی ہیں لیکن میری ایک اور صفت بھی ہے اور وہ یہ کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: ۵۴) کہ اگر میں چاہوں تو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونے کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو بخش بھی دیا کرتا ہوں اور جب گناہ میری مغفرت کی چادر کے نیچے چھپ جائیں تو پھر میرے اور تمہارے درمیان جو گناہوں کے فاصلے ہوں گے وہ مٹ جائیں گے اور میں خود آسمانوں سے اتروں گا اور تمہارے قریب آ جاؤں گا اور تمہیں اپنا مقرب بنالوں گا - أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ اور اس کی علامت یہ ہوگی کہ تم دعا کرو گے تو میں اسے قبول کر لوں گا تا کہ دنیا یہ نہ کہہ سکے کہ تمہارا یہ دعوی کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا جو قرب حاصل ہے وہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی برکت سے حاصل ہوا ہے یہ محض تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔اس قرب کی دلیل مہیا کرنے کے لئے میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا تا کہ دنیا یقین کر لے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو۔واقعی سچا ہے۔اگر تم گریہ وزاری اور عجز و انکسار اور تذلیل کے ساتھ میرے سامنے جھکتے رہو گے تو دنیا أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے نظارے بھی دیکھتی چلی جائے گی۔دعا اور قبولیت دعا کے متعلق ہمیں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہمارا رب ہماری دعائیں