خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 733 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 733

خطبات ناصر جلد اول ۷۳۳ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء جذب نہ کریں اس وقت تک اپنے اعمال پر ہم خوش نہیں ہو سکتے۔نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول کرے گا بھی یا کہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف اور پر شوکت الفاظ میں ہمیں بتا دیا ہے قل مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَو لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) تمہاری کیا پرواہ ہے تمہاری نیکیوں کی کیا پرواہ ہے۔تمہارے اعمال کی کیا پرواہ ہے میرے رب کو ، اگر دعا کے ساتھ تم اس کی طرف جھکونہ۔لیکن ہمیں تو اس کی پرواہ ہے اور اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی محبت کے جلوے ظاہر کرتا رہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم دعاؤں کے ذریعہ سے، ان دعاؤں کے ذریعہ سے، ان دعاؤں کے ذریعہ سے جن میں تمام شرائط دعا پائی جاتی ہوں ، اس کے فضل کو جذب کرنے والے ہوں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے اعمال کی اتنی بھی قیمت نہیں جتنی کیڑی کے ایک پاؤں کی قیمت دنیا کی نگاہ میں ہے۔دوسرے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اسلام نے ایسی تعلیم ہمیں عطا کی ہے کہ اگر ہم اس تعلیم کو پیش نظر رکھیں اور اسلام کی ہدایات پر عمل کریں تو ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ ہمارا خدا جو سمیع ہے ہماری دعاؤں کو سنے گا اور قبول فرمائے گا اور ہمارے لئے اپنی رحمت کے سامان پیدا کرے گا۔اور تیسری بات ہمیں یہ بتائی کہ خدا تعالیٰ بے شک السَّمِيعُ ہے لیکن وہ علیہ بھی ہے ایک انسان دنیا کو دھوکا دے سکتا ہے وہ ظاہر میں بزرگی کا جبہ پہن سکتا ہے وہ ہزار تکلف کے ساتھ اپنی بزرگی کا اعلان کر سکتا ہے لیکن اپنے رب کو وہ دھوکا نہیں دے سکتا۔پس وہی شخص خدا کے نزدیک مقبول ہے اور اسی کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں جس کے دل میں کسی قسم کا فساد اور گند اور ناپاکی نہ ہو کبر، تکبر،نخوت ، خود پسندی خود رائی، اپنے آپ کو کچھ سمجھنا اور دنیا کو حقیر سمجھنا یہ باتیں نہ ہوں، بلکہ خدا تعالیٰ کے حقیقی عشق سے جو گناہ سوز ہے اس کی تمام کمزور یاں اور گناہ خاک ہو گئے ہوں اور وہ ایک پاک دل کے ساتھ اور ایک مطہر سینہ کے ساتھ اور آنسو بہانے والی آنکھ کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکنے والا ہو تب اس کی دعا کو قبول کیا جاتا ہے۔لیکن ہمارا خدا ( نعوذ باللہ ) جاہل نہیں ہے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ جیسا کہ