خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 734
خطبات ناصر جلد اول ۷۳۴ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء قرآن کریم نے فرمایا ہے۔سینوں کی باتوں کو جانتا ہے وہ جیسا کہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔جانتا ہے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں۔وہ جانتا ہے کہ کون ہمارا دشمن ہے اور کون دوست۔وہ جانتا ہے کہ کس چیز میں ہماری بھلائی ہے اور کس چیز میں ہمارا نقصان ہے پس ہماری دعاؤں کو علیم ہونے کی حیثیت سے قبول کرتا ہے۔وہ (نعوذ باللہ ) بے وقوف ماں کی طرح نہیں ہے کہ اگر بچہ آگ کا انگارہ اس سے مانگے تو بعض دفعہ چڑ چڑائے پن میں وہ آگ کا انگارہ اس کے سامنے رکھ دیتی ہے اور بچے کے ہاتھ کو جلا دیتی ہے وہ ماں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے وہ باپ سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے وہ جب دعاؤں کو قبول کرنے پر آتا ہے تو انہی دعاؤں کو اور اسی رنگ میں قبول کرتا ہے جو دعا ئیں جس رنگ میں ہمارے فائدہ کے لئے ہیں۔لیکن جب دعا میں جو چیز مانگی گئی ہے وہ ہمارے فائدہ کے لئے نہ ہوتو وہ اسے رڈ کر دیتا ہے اور اس کی بجائے محض اپنے فضل اور رحم سے کسی اور شکل اور کسی اور رنگ میں اپنی رحمت کو ظاہر کرتا ہے وہ بڑا ہی پیار کرنے والا وہ بڑی ہی محبت کرنے والا رب ہے، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کے دن گزاریں اور جماعت کے اندر اتحاد اور اتفاق کو ہمیشہ قائم رکھیں اور اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہ کریں کہ سب بز رگیاں اور ساری ولایت خلافت راشدہ کے پاؤں کے نیچے ہے۔جو شخص اس سے باہر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے اس کی دعا ئیں اگر قبول بھی ہوں تو وہ قبولیت اصطفاء کی نہیں وہ قبولیت ابتلا اور امتحان کی ہے پس اپنے رب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔( روزنامه الفضل ربوه ۱۱ جون ۱۹۶۷ء صفحه ۱ تا ۵)