خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 703
خطبات ناصر جلد اول ۷۰۳ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء پہلے وعدہ دیا اور پھر اس وعدہ کو قرآن کریم کی شریعت کے رنگ میں پورا کیا کہ وہ کامل تعلیم امن جو اقوامِ عالم کے درمیان امن کو قائم کرنے کے لئے تھی وہ انسان کو دی گئی اور اب دسویں مقصد میں اللہ تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ اس تعلیم پر عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ امت محمدیہ یا موعودہ اُمت تذلیل اور عاجزی کو اختیار کرنے والی نہ ہو۔اس واسطے کہا اِتَّخِذُوْا مِنْ مَقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّى اس کے بغیر تم عالمگیر امن کو دنیا میں قائم نہیں کر سکتے تو یہاں وعدہ دیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک ایسی اُمت پیدا کی جائے گی جو مقام عبودیت پر مضبوطی سے قائم ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے کامل متبعین جو اپنے مقام عبودیت کو پہچانتے ہیں اور مضبوطی سے اس پر قائم ہیں۔وہ ہیں جو بشہو دکبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تذلل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں، جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے۔پس وہ تمام خیر وخوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پُر جوش دریا ان کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی نیستی ان پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہر یک رگ وریشہ سے بکلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔نماز کے اجزاء اپنے اندر ادب، خاکساری اور انکساری کا اظہار رکھتے ہیں قیام میں نمازی دست بستہ کھڑا ہوتا ہے جیسا کہ ایک غلام اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے طریق ادب سے کھڑا ہوتا ہے رکوع میں انسان انکسار کے ساتھ جھک جاتا ہے۔سب سے