خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 689
خطبات ناصر جلد اول ۶۸۹ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ اوڑھتا اور مقام ابراہیم میں داخل ہوتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے نزول کرتی ہیں اور اس کو ہر قسم کے عذابوں سے محفوظ کر لیتی ہیں، خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر دو آگوں کو متسلط نہیں کرتا۔ایک تو اس کے وہ بندے ہیں جو محبت کی آگ میں جل کر فنا کا مقام حاصل کرتے ہیں تب دوسری آگ کے دروازے ان پر بند کر دیئے جاتے ہیں۔ایک وہ اس کے بندے ہیں جو اس کی محبت کا خیال نہیں رکھتے جو اس کے پیار پر شکر کرنے والے نہیں جو اس کی رحمتوں پر کفر کرنے والے ہیں جو اس سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس سے پیار کرنے کی بجائے دنیا سے پیار کرتے ہیں وہ اسے محبوب بنانے کی بجائے دنیا کے علائق کو اور دنیا کے رشتوں کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔ایسے لوگوں پر خدا کی حفاظت نازل نہیں ہوتی اور نہ اس کی فوجیں نازل ہو کر اس کو امن دیتی ہیں۔بلکہ دوزخ کے دروازے ان لوگوں پر کھولے جاتے ہیں اور نار جہنم ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔پس خدا کے بندوں پر دو آ گئیں وارد نہیں ہوتیں۔اب یہ ان کی مرضی ہے کہ محبت کی آگ کو پسند کریں اور گندگی کو جلا کر خاک کر دیں اپنے نفس کو بھی ، اور اپنی خواہشات کو بھی ، اپنے وجود کو بھی ، اپنی ساری محبتوں کو بھی اپنے سارے رشتوں کو بھی ، اپنے تعلقوں کو بھی اور یا وہ خدا کی محبت پر دنیا کی محبت کو ترجیح دیں اور اپنے لئے خود اپنے ہاتھ سے جہنم کے دروازے کھولیں۔ساتواں وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا گیا تھا کہ صرف تیری نسل پر ہی یہ حج فرض نہ رہے گا بلکہ ایک ایسا نبی یہاں مبعوث کیا جائے گا جس کی شریعت عالمگیر ہو گی اور اس شریعت کے نزول کے بعد اقوام عالم پر حج کو فرض کر دیا جائے گا اور اس طرح اس خانہ خدا کو مرجع خلائق اور مرجع عالم بنادیا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور قرآنی شریعت آپ پر نازل ہوئی تب اس شریعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان پر حج کو فرض کر دیا۔چنانچہ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلْحَج اَشْهُرُ مَعْلُومَنَّ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَقِّ وَ مَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ (البقرة: ۱۹۸) که اے بنی نوع انسان !تم یا درکھو کہ حج کے مہینے سب کے جانے پہچانے ہیں پس جو شخص حج کو اپنے