خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 669
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۶۹ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء قرآن شریف کا ہی ایسا زمانہ تھا جس میں کامل تعلیم عطا کی جاتی۔پس یہ دعوی کامل تعلیم کا جو قرآن شریف نے کیا۔یہ اُسی کا حق تھا۔اس کے سوا کسی آسمانی کتاب نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔جیسا کہ دیکھنے والوں پر ظاہر ہے کہ توریت اور انجیل دونوں اس دعوے سے دستبردار ہیں۔آپ نے تو رات اور انجیل کے متعلق جو دعویٰ کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تورات نے تو یہ کہا کہ تمہارے بھائیوں میں سے ایک نبی مبعوث کیا جائے گا وہ خدا کا کامل کلام تمہیں سنائے گا اور جو اس کی نہیں سنے گا اور اس کی اتباع نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے مواخذہ ہو گا۔اگر تورات کامل ہوتی تو تو رات کے بعد کسی ایسی شریعت کے نزول کا امکان بھی نہ رہتا جس کے نہ ماننے پر اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے انسان آجاتا۔اور انجیل نے یہ کہہ کر دستبرداری کا اعلان کیا کہ بہت سی باتیں قابل بیان ہیں مگر تم ان کی ابھی برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ تمہاری استعداد میں ابھی کامل نہیں ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی دلیل ہے کہ وہ تعلیم کی رو سے ہر ایک مذہب کو فتح کرنے والا ہے اور کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔“ کیونکہ ہر مذہب کو قرآن کریم اور اسلام فتح کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔(بنی اسراءیل : ۸۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہاں اَلْحَقِّ۔مراد اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بھی ہے اور قرآن کریم بھی ہے تو اس آیت کے معنی یہ بنے کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا جلالی ظہور ہوا اور اس جلالی ظہور کے نتیجہ میں شیطان مع اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ثابت ہوئیں اور اس کی قائم کردہ بد رسوم اور بدعات شنیعہ کا گند ظاہر ہو گیا اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست ہوئی۔