خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 640
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۴۰ خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۶۷ء وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - (البقرة : ۱۲۶ تا ۱۳۰) فرمایا:۔ایک اہم موضوع پر میں بعض خطبے پڑھ چکا ہوں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک گھر تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے بنایا مگر انہوں نے اس کی عظمت کو نہ پہچانا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ برباد ہو گیا اور اس کا نام و نشان مٹ گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ نشان دہی کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے اسے از سر نو تعمیر کروایا اور اس کی حفاظت کے لئے اور اس کی عظمت کے قیام کے لئے یہ انتظام کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اولا د کو اس خانہ خدا کی خدمت کے لئے وقف کریں۔چنانچہ آپ کی اولا د ایک لمبا عرصہ اس خدمت پر لگی رہی اور دو ہزار پانچ صد سالہ خدمت اور دعاؤں کے نتیجہ میں وہ قوم تیار ہوئی جو کامل اور مکمل اور عالمگیر شریعت کی ذمہ داریوں کے بار گراں کو اٹھانے کی قوت اور استعدادا اپنے اندر رکھتی تھی۔پھر میں نے بتایا تھا کہ یہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں اللہ تعالیٰ نے ان تیئیس اغراض و مقاصد کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق تعمیر بیت اللہ سے ہے اور ان تمام مقاصد کے حصول کا تعلق بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ان اغراض میں سے پانچ کے متعلق میں نے گذشتہ خطبہ میں آپ دوستوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اول یہ کہ یہ گھر وُضِعَ لِلنَّاسِ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے تعمیر کروایا جارہا ہے دوسرے یہ کہ مُبر گا اس کے اندر مبارک ہونے کی صفت پائی جاتی ہے۔مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی تیسرے یہ کہ هُدًى لِلْعَلَمِينَ تمام جہانوں کے لئے اسے ہم موجب ہدایت بنانا چاہتے ہیں اور ہدایت کے لئے ہر چہار معنی کی رو سے اسے اللہ تعالیٰ نے عالمین کے لئے ہدایت کا مرکز بنایا ہے چوتھے یہ کہ فِیهِ ای بینت۔یعنی آسمانی نشانات کا ایسا سلسلہ یہاں سے جاری کیا جائے گا جو قیامت تک زندہ رہے گا اور ایک ایسا چشمہ آسمانی تائید کا یہاں سے پھوٹے گا جو کبھی خشک نہیں ہوگا۔اور پانچویں مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ کے الفاظ میں یہ بتایا کہ وہ عبادت جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر استوار کی جاتی ہے اس عبادت کا یہ مرکزی نقطہ ہو گا اور ایک قوم جو نمائندہ ہو گی تمام اقوام کی اور نمائندہ ہوگی ہر زمانہ کی، پیدا کی