خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 641
خطبات ناصر جلد اول ۶۴۱ خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۶۷ء جائے گی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے گناہ سوز عشق سے سرشار ہو گی اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں اس پر ہمیشہ کھلی رہیں گی۔یہ پانچ مقاصد تھے جن کے متعلق میں نے گذشتہ جمعہ میں تفصیل سے بیان کیا تھا کیونکہ مجھے ان مقاصد میں سے ہر ایک کی طرف پھر واپس آنا ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ان میں سے ہر ایک کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہے اور یہ کہ وہ کس طرح اور کس شکل میں حاصل ہوا۔اس لئے آج میرا ارادہ یہ ہے کہ میں بڑے ہی اختصار کے ساتھ ان مقاصد کو بیان کروں اور کوشش کروں کہ تئیس مقاصد میں سے جو باقی رہ گئے ہیں ان سب کو آج کے خطبہ میں بیان کر دوں آگے جو خدا کو منظور ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا بیت اللہ کی تعمیر کی چھٹی غرض یہ ہے کہ جو بھی اس کے اندر داخل ہوگا یعنی ہر وہ شخص جو ان عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق بیت اللہ سے ہے دنیا اور آخرت کے جہنم سے وہ خدا کی پناہ میں آجائے گا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔پس چھٹی غرض بیت اللہ کی تعمیر کی یہ ہے کہ اللہ کا ایک ایسا گھر بنایا جائے کہ جس کے ساتھ بعض عبادات تعلق رکھتی ہوں اور جو شخص بھی خلوص نیت کے ساتھ اور کامل اور مکمل طور پر ان عبادات کو بجالائے گا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔کہ اس کے تمام پچھلے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا اور نار جہنم سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔ساتو میں غرض بیت اللہ کی تعمیر کی اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتائی ہے کہ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِج البيت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد یا اہل عرب پر ہی یہ فرض نہیں کہ وہ بیت اللہ کا حج کریں بلکہ بیت اللہ کی تعمیر کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ اقوام عالم بیت اللہ کے حج کے لئے اس مقام پر جمع ہوں ( میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام اغراض و مقاصد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے وقت ہی بتا دیئے گئے تھے جیسا کہ بہت سے قومی قرائن اس کے متعلق قرآن کریم سے ملتے ہیں ) غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ کہا کہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک ایسا گھر ہے کہ تمام اقوام عالم پر جو مجھ پر ایمان لائیں گی اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائیں گی اور خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وسلم)