خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 631
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۳۱ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء ددو ددوا ددوا ،، بلا امتیاز نسل اور قطع نظر ان امتیازات کے جو ایک کو دوسرے سے علیحدہ کر دیتے ہیں تمام اقوام عالم اس گھر سے دنیوی فوائد بھی حاصل کریں گی اور دینی فوائد بھی حاصل کریں گی۔یہ پہلی غرض ہے اس گھر کی از سرنو تعمیر سے۔دوسری غرض بیت اللہ کی تعمیر سے یہ ہے کہ ہم ایک اپنے گھر کو ( بیت اللہ کو ) ”مبر گا “ بنانا چاہتے ہیں اور ”مبر گا “ اس مقام کو کہتے ہیں جو نشیب میں ہو اور اگر بارش ہو تو چاروں طرف کا پانی وہاں آ کر جمع ہو جائے۔چونکہ یہاں بارش کے موضوع پر اللہ تعالیٰ بات نہیں کر رہا۔بلکہ انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات اور بہبود کے متعلق بات ہو رہی ہے اس لئے یہاں ”مبر گا کے معنی دو ہیں۔ایک یہ کہ تمام اقوامِ عالم کے نمائندے اس گھر میں جمع ہوتے رہیں گے اور دوسرے یہ کہ ہم نے بیت اللہ کو اس لئے تعمیر کروایا اور اسے معمور رکھنے ( آباد رکھنے ) کا فیصلہ کیا ہے کہ یہاں ایک ایسی شریعت قائم کی جائے گی یہاں ایک ایسا آخری شریعت والا نبی مبعوث کیا جائے گا کہ جس کی شریعت میں تمام ہدایتیں اور صداقتیں (روحانی) جو مختلف اقوام کی شریعتوں میں متفرق طور پر پائی جاتی تھیں پھر اکٹھی کر دی جائیں گی اور کوئی ایسی صداقت نہ ہوگی جو اس شریعت سے باہر رہ گئی ہو۔پس فرمایا کہ روحانی لحاظ سے ہم اس بیت اللہ کو ”مبر گا بنا نا چاہتے ہیں اور ہماری یہ غرض ہے کہ یہ مولد ہوگا ایک ایسی شریعت کا کہ تمام انبیاء کی شریعتوں میں جو ہدایتیں متفرق طور پر پائی جاتی ہوں گی وہ اس میں اکٹھی کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ برکت بھی ہوگی یعنی وہ تمام چیزیں جو پہلوں کے لئے ضروری نہیں تھیں اور وہ انہیں برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ صداقتیں بھی اس میں بیان ہوں گی اور ایک کامل اور مکمل شریعت ہو گی جو تمام قوم کے فائدہ کے لئے قائم کی جائے گی اور یہ جو گھر ہے اور یہ جو بیت اللہ ہے یہ اس کامل اور مکمل اور ابدی شریعت کے لئے ددو ،، ام القری ٹھہرے گا۔تیسری غرض بیت اللہ کے قیام کی ھدی للعلمین میں بیان کی گئی ہے۔آپ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ان آیات کے شروع میں بیان کیا گیا تھا۔وُضِعَ لِلنَّاس کہ تمام دنیا ، تمام اقوام اور