خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 630
خطبات ناصر جلد اول ۶۳۰ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء گھر کی حفاظت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کو وقف کر دینے کا فیصلہ کیا تا ایک قوم اس بیت اللہ سے تعلق رکھنے والی ایسی پیدا ہو جائے جن کے اندروہ تمام استعداد میں پائی جاتی ہوں جو اس قوم میں پائی جانی چاہئیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی پہلی مخاطب ہو۔چنانچہ اڑھائی ہزار سال تک دعاؤں کے ذریعہ سے اور وقف کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم تیار ہوئی جو اگر خدا تعالیٰ کی بن جائے تو اس کے اندر تمام وہ استعداد یں پائی جاتی تھیں جو روحانی میدانوں میں بنی نوع انسان کی راہ نمائی اور قیادت کر سکے اور چونکہ یہ استعداد میں اور قو تیں اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں ان کے غلط استعمال سے فتنہ عظیمہ بھی پیدا ہوسکتا تھا۔اس لئے جب تک وہ گمراہ رہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت سے مخالفت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی ایذا پہنچائی کہ پہلی کسی امت نے اپنے نبی کو اس قسم کی ایذ انہیں پہنچائی غرض ان کے اندر استعدادیں بڑی تھیں ایک وقت تک وہ چھپی رہیں۔ایک وقت تک شیطان کا ان پر قبضہ رہا لیکن جب وہ سوئی ہوئی استعدادیں بیدار ہوئیں اور انہوں نے اپنے رب کو پہچانا تو دنیا نے وہ نظارہ دیکھا کہ اس سے قبل کبھی بھی انسان نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اس قسم کی قربانیوں کا نظارہ نہیں دیکھا تھا۔غرض یہ وہ قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں اور ان کی دعاؤں اور ان کی نسل کی قربانیوں اور ان کی دعا کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔غرض وضع للناس کا مفہوم حقیقی معنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ تمام اغراض و مقاصد جو بیت اللہ سے متعلق ہیں وہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ میں اس گھر کی جو میرا گھر ہے از سر نو تعمیر ان اغراض کے پیش نظر کروا رہا ہوں اور اس کے لئے تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔غرض پہلا مقصد جس کا تعلق بیت اللہ سے ہے یہ ہے کہ یہ بیت اللہ وہ سب سے پہلا خدا کا گھر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کے دینی اور دنیوی فوائد رکھے ہوئے ہیں۔وضع للناس یعنی تمام لوگوں کی بھلائی کے لئے اس کی تعمیر کی گئی ہے۔یہاں سے دنیا کی اقوام بلا امتیاز رنگ،