خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 616

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۱۶ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء ملنا تھا۔اس کا ثواب اگر زید خرچ کرنے والا ہے تو بکر کونہیں ملتا اگر زید بنخل کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں جو محرومیاں اس کو حاصل ہوتی ہیں وہ محرومیاں بکر کو حاصل نہیں ہوتیں تو اس بخل کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ثواب سے محروم کرتا ہے۔اپنے نفس کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے کسی اور کو نہ فائدہ تھا انفاق سے، نہ ہی اس بخل کے نتیجہ میں کسی کو نقصان پہنچے گا خود اپنے نفس کو ہی ایسا شخص نقصان پہنچانے والا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ غنی ہے اور تم فقراء ہو خدا تعالیٰ کو تو کسی مال کی ضرورت نہیں وہ ہمیشہ سے غنی ہے وہ اس دن سے غنی ہے جب اس نے تم کو سورج کی روشنی سے فائدہ پہنچانے کے لئے اس کو پیدا کیا سورج کی پیدائش سے اس کو کوئی ذاتی نفع نہیں تھا یا اگر وہ اسے پیدا نہ کرتا تو اسے کوئی ذاتی نقصان نہیں تھا۔وہ ہمیشہ سے غنی ہے لیکن ہمیشہ سے وہ سنی بھی ہے وہ بڑا دیا لوبھی ہے وہ بڑا رحم کرنے والا بھی ہے وہ بڑا خیال رکھنے والا بھی ہے۔وہ بڑا پیار کرنے والا بھی ہے جو مخلوق لاکھ سال کے بعد یا دس لاکھ سال کے بعد یا کروڑ سال کے بعد پیدا ہونی تھی اس کا اس نے کروڑ سال پہلے یا دس لاکھ سال پہلے یا لا کھ سال پہلے سے خیال رکھا با وجود غنی ہونے کے تو جہاں اس کی صفت غناء ازلی ہے وہاں اس کی رحمت بھی ہر وقت جوش میں رہتی ہے تو تمہیں کس نے کہا کہ وہ فقیر بن کر تمہارے دروازہ پر آیا اور اس نے تمہارا دروازہ کھٹکھٹایا فقیر تو تم ہو تم اپنی پیدائش سے پہلے بھی فقیر تھے کہ اگر تمہاری ضرورت کو اس وقت پورا نہ کیا جاتا اور آج سورج کی روشنی تمہارے او پر نہ چمکتی تو تم بہت ساری چیزوں سے محروم رہ جاتے مثلاً آنکھ کی بینائی سے تم محروم رہ جاتے تم اپنی پیدائش سے بھی پہلے فقیر تھے اور تمہارا رب تو ہمیشہ سے ازل سے غنی ہے اور ابد تک غنی رہے گا لیکن کسی زمانہ کوبھی کیوں نہ لو تمہارا فقر، تمہاری احتیاج اپنے رب کی طرف تمہیں لاحق رہتی ہے تو جب تمہاراغنی ، جب تمہارا سخنی ، جب تمہارا دیا لو، جب تمہارا بخشن ہار رب تمہارے دروازہ پر آ کر تمہارے اموال کا مطالبہ کرتا ہے تو اس میں تمہارا ہی فائدہ اسے مد نظر ہوتا ہے اس کا اپنا کوئی فائدہ اس کے اندر نہیں ہوتا اور اگر تم اس آواز پر لبیک نہ کہو اور قربانیوں کو دینے کے لئے اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیار نہ