خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 615
خطبات ناصر جلد اول ۶۱۵ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء تمہارے دل کے اندر جو اضغان ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں صحت عطا کرے گا اور تمہارے دل کی ان بیماریوں کو وہ دور کر دے گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَنْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سنو اور ہوشیار رہو تم وہ لوگ ہو جن کو اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ تم ان راہوں میں خرچ کرو جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جاتی ہیں۔تم فی سبیل اللہ خرچ کرو، تم کو اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ تم فانی چیزوں کو دے کر ابدی سرور کے وارث بنو تم کو اس لئے بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر اشاعت قرآن کے لئے ، اشاعت اسلام کے لئے ، استحکام اسلام کے لئے اور تعلیم اسلام کو فروغ دینے کے لئے الہی سلسلہ کے خزانہ میں آکر جمع کر دو مگر فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں لیکن جب دنیا کے کھیل کو د کا معاملہ ہو اور ایسے اخراجات ہوں جن کے نتیجہ میں انسان لازماً خدا تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے تو اس وقت بخل کا نام ونشان باقی نہیں رہتا بڑی دلیری سے خرچ کرتے ہیں۔دنیا کی رسوم ہیں، رواج ہیں ، بیاہ شادی کے اوپر وہ لغویات کی جاتی ہیں اور ان لغویات پر وہ خرچ کیا جاتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ ان آدمیوں کی عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی بساط اور استطاعت سے آگے نکلتے ہوئے یہ خرچ کر رہے ہیں۔اپنے لئے بھی دنیا میں ایک مصیبت پیدا کر رہے ہیں لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ آؤ غلبہ اسلام کے لئے مالی قربانیاں دیں تو کہتے ہیں کہ بڑی مجبوری ہے، بڑی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کو پڑھا رہے ہیں، رشتہ داروں کو پال رہے ہیں اس میں ہمیں رعایت ملنی چاہیے لیکن بچوں کی پڑھائی اور رشتہ داروں کا خیال بد رسوم کی ادائیگی کے وقت ان کے دماغوں میں نہیں آتا تو جب دنیا کے لئے وہ خرچ کرتے ہیں ، دنیا کے کھیل کود اور دنیا کے کھو کے لئے تو بے دریغ خرچ کر جاتے ہیں اور اموال کو ضائع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ تم آزاد ہو تم پر کوئی جبر مذہب نے عائد نہیں کیا اس لئے جو چاہو کر ولیکن یہ یاد رکھو کہ مَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْیسہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص بھی انفاق فی سبیل اللہ میں بخل سے کام لیتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ انفاق کا فائدہ اسے ہی