خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 586 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 586

خطبات ناصر جلد اول ۵۸۶ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء پس ہمارا رب بڑا ہی پیار کرنے والا ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی جماعتوں اور الہی سلسلوں کا اکثر حصہ ایمان کی پختگی رکھنے والا ہوتا ہے۔وہ لوگ "عَرَضًا قَرِيبًا‘ سے پیار نہیں کرتے نہ یہ دیکھتے ہیں' سفرا قاصدا کہ ایک سیدھا اور سہل سفر اختیار کیا اور منزل مقصود تک پہنچ گئے بلکہ وہ محبت رکھتے ہیں شقة کے ساتھ اور اس کی راہ میں تکلیف برداشت کرنے کو محبوب سمجھتے ہیں اور اسی میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اسی میں وہ اپنی راحت پاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان پر اتنا فضل کرتا ہے کہ قربانیوں کی شکل میں جو قیمت انہوں نے دی ہوتی ہے جیسا کہ میں نے ایک مثال کے رنگ میں اسے بیان کیا ہے اس سے کہیں زیادہ سرمایہ بھی واپس کر دیتا ہے جو چیز لینے کی انہوں نے خواہش کی ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اپنے بندوں کو دے دیتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے کہ جس کے قطروں کا گنا انسانی طاقت میں نہیں ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور ہم اس کے عاجز بندے ہمیشہ اس کی حمد سے معمور رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمارا سر اس کے آستانہ پر جھکا رہتا ہے اس خیال سے کہ وہ کتنا ہم سے پیار کرتا ہے کتنا ہم سے محبت کا سلوک کرتا ہے کتنی نعمتوں سے ہمیں وہ نوازتا ہے کتنی رضا اور سرور کے سامان اس نے ہمارے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔دنیا جو چاہے سوچتی رہے جس رنگ میں چاہے ہمیں دکھ پہنچانے کی کوشش کرتی رہے۔دنیا کے سارے دکھ ، دنیا داروں کی پہنچائی سب تکالیف اس کی رضا کے ایک سیکنڈ کے سکھ اور چین اور سکینت کے اوپر قربان ساری عمر کے آرام ! یہ عمر ہے کیا ؟ عارضی چیز ہے اور جو یہاں دنیوی آرام اور آسائشیں ہیں وہ بھی عرضا قریبا ہی ہے کہ فانی ہیں جن کا ثواب کوئی نہیں۔لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے لئے انہیں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے بدلے میں اس دنیا میں بھی اور پھر یہاں سے گزرنے کے بعد ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنی رضا کی جنتوں میں اپنے بندوں کو رکھتا ہے یہ دیکھ کر کون وہ بد بخت دل ہو گا جو اس کے سامنے حمد کے ساتھ نہیں جھکے گا ؟ اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق ہے کہ اس نے ہمیں حمد کرنے والے اور شکر کرنے والے، اس کی