خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 568
خطبات ناصر جلد اول ۵۶۸ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء دراصل تو یہاں مہمان کون اور میزبان کون۔آنے والے بھی مہمان اور ہم بھی مہمان میزبان تو ہمارا رب یا اس کے مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور ایک لحاظ سے ہم سارے ہی میزبان ہیں۔بطور خادم کے جو لوگ اپنے آپ کو مسیح موعود علیہ السلام کے خادم سمجھتے ہیں وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مہمان ہو اور وہ میزبان نہ ہو اور خادم نہ ہو تو ہم ایک دوسرے کے میزبان اور خادم بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مہمان بھی ہیں۔پس جس قدر رضا کار چاہئیں اتنے رضا کار نظام کو ملنے چاہئیں اور میں رضا کاروں کو کہوں گا کہ جس محبت اور اخلاص کے ساتھ اور فدائیت کے ساتھ اور قربانی کے ساتھ اور تکلیفیں اُٹھا کر خدا کے مسیح کے ایک خادم کو خدا کے مسیح کے ایک مہمان کی خدمت کرنی چاہیے۔اس طرح آپ خدمت کریں تا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض کی ادائیگی کی تو فیق عطا کرتار ہے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۲۴ جنوری ۱۹۶۷ء صفحه ۱ تا ۳)