خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 561 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 561

خطبات ناصر جلد اول ۵۶۱ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء پھر دوکانداروں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اچھی اور ستھری چیز رکھیں اور مناسب نرخوں پر انہیں فروخت کریں اور بیع و شراء میں کسی قسم کا جھگڑا نہ ہونے دیں۔قولِ سدید سے کام لیں کوئی بیچ بیچ میں نہ ہو، جو بعد میں کسی قسم کی بدمزگی یا بدظنی کا باعث بنے۔یہ بھی یا درکھیں کہ اشیاء دو نقطہ ہائے نگاہ سے ستھری اور عمدہ کہلاتی ہیں، ایک وہ جو ظاہر میں ستھری ہوں اور ایک وہ جو اپنے اثر کے لحاظ سے صحت مند ہوں۔ایسی غذائیں کھانے پینے کی چیزیں ) جن کا صحت پر اچھا اثر نہیں پڑتا ، ربوہ کے دوکانداروں کو نہیں لانی چاہئیں نہیں بیچنی چاہئیں۔پس صحت مند اغذ یہ ہماری دوکانوں پر بکنی چاہئیں۔اہل ربوہ اور کارکنان جلسہ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان دنوں میں خاص طور پر یہ دعا ئیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو ہر لحاظ سے با برکت کرے اور جیسا کہ محض اپنے فضل سے وہ پہلے کرتا آیا ہے کہ باوجود اس قدر عظیم اجتماع کو اور باوجود اس کے کہ صحت جسمانی کا عام معیار اتنا بھی نہیں ہوتا جتنا بعض دوسرے میلوں پر ہوتا ہے۔باوجود ان ساری چیزوں کے اللہ تعالیٰ نے اس اجتماع کو ہر قسم کی بیماری اور وباء سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔پس دعا کرنی چاہیے کہ جیسا وہ پہلے محفوظ رکھتا چلا آیا ہے اس جلسہ پر بھی اور آئندہ جلسوں پر بھی وہ احباب جماعت کو خواہ باہر سے آنے والے مہمان ہوں یار بوہ میں بسنے والے ہوں۔ہر قسم کی وباء اور بیماری سے محفوظ رکھے اور اس طرح اپنے فضل اور رحمت کو ہم پر نازل کرے کہ دیکھنے والی نگاہ میں یہ بھی ایک معجزہ سے کم نہ ہو جیسا کہ حقیقتاً یہ ایک معجزہ ہے۔ایسے بڑے اجتماعات پر جہاں مرد بھی کثرت سے شامل ہوں اور مستورات بھی کثرت سے شامل ہوں اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو احکام اسلام نے غض بصر وغیرہ کے متعلق دیئے ہیں۔ان کی طرف خاص توجہ دی جائے۔ہمارے اس جلسہ میں جہاں باہر سے بڑی کثرت سے مستورات بھی (احمدی بہنیں بھی ) آتی ہیں اور مرد بھی آتے ہیں ( شہری بھی اور دیہاتی بھی پڑھے ہوئے بھی اور ان پڑھ بھی مختلف عادتوں والے جو مختلف روایات میں سے گزر کر جوان ہونے والے) ہمارے ماحول کی پاکیزگی کے نظارے جب غیر دیکھتے ہیں تو حیران رہ